• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

تھائی لینڈ سے پاکستان واپسی پر مجھے کالج جائن نہیں کرنے دیا گیا اور آٹھ ماہ تک میں او ایس ڈی رہا پرویز مشرف کے دور میں یہی ہونا تھا بالآخر میری تعیناتی ایف سی کالج میں کر دی گئی ریاض اور بہادر ناروے اور تھائی لینڈ میں بطور باورچی اور ڈرائیور میرے ساتھ ہی رہےتھے ۔لاہور واپسی پر میں نے ان دونوں کو اپنے ساتھ رکھ لیا۔ ایف سی کالج میں دو اساتذہ سے میری ملاقاتیں زیادہ رہیں پروفیسر مظہر اور احمد عقیل روبی سے ۔پروفیسر مظہر ادب کے سنجیدہ طالب علم اور انتہائی خوشگوار شخصیت کے مالک تھے احمد عقیل روبی بہت عمدہ نثرنگار اور شاعر تھے ۔ان کے بات کرنے کا انداز بہت دل لبھانے والا تھا میں نے ایف سی کالج میں ٹیچنگ کے علاوہ کالم نگاری کا سلسلہ جاری رکھا تھا میرے کولیگز میں اجمل نیازی اور توفیق بٹ بھی تھے اجمل بہت مختلف لہجے کا شاندارشاعر تھا۔

شہر غفلت میں مجھے مثل سحر بھیجا گیا

دیر تک سوئے ہوئے لوگوں کے گھر بھیجا گیا

وہ کالم بھی لکھتا تھا مگر اس نے کالم اپنے خوبصورت اسلوب سے ہٹا کر لکھے توفیق بٹ بہت عمدہ کالم نگار تھا اور آج ماشااللہ اس کا کالم ایک برینڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ احمد عقیل روبی انتقال کر چکے ہیں توفیق اور مظہر صاحب ہمارے ساتھ ہیں اللہ انہیں تادیر ہمارے ساتھ رکھے !

ریاض کو میں نے اپنے گھر کے باہرکوارٹر میں جگہ دے دی تھی میری طرف موٹر سائیکل پر آتا تھا وہ میرے دفتر ’’معاصر‘‘ میں آنے والے دوستوں کو بہت پروٹوکول دیتا ان سے کار کی چابی لیکر صحیح مقام پر پارک کرتا اور ان کے جاتے وقت ان کے ساتھ انہیں ان کی کار تک چھوڑنے جاتا اس کے پاس ایک عجیب وغریب علم تھاچٹا ان پڑھ ہونے کی وجہ سےوہ لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا لیکن میرے سب دوستوں کے نام اور ٹیلی فون نمبر اس نے اپنے موبائل میں جمع کر رکھے تھے نام لکھنا تو وہ جانتا نہیں تھا مگر اس نے بطور مثال امجد اسلام امجد کا نمبر چار لکھا ہوا تھا اس طرح بیسیوں ناموں کی بجائے نمبر ان کا مقدر بنے ہوئے تھے ان میں کوئی بدقسمت زیرو اور کوئی چار سو بیس بھی ہوتا میرےدوست بھی اس کے پروٹوکول کی قدر کرتے اور آتے جاتے اس کی خدمت کرتے، امریکہ سے ڈاکٹر کوہلی آتے تو بہادرکے پانچ ہزار پکے تھے لندن سے احسان شاہد اور عمان ریاض قمر بھی اس کی پانچ پانچ ہزار کی ’’اسامی ‘‘ تھے ناروے جاتے وقت میں معاصر کی ادارت امجد اسلام کے سپرد کر گیا تھا میں کبھی کسی سے اشتہار کی فرمائش نہ کرپاتا مگر میری عدم موجودگی میں امجد کی ادارت میں جو معاصرشائع ہوا وہ اشتہارات سے بھرا پڑا تھا میرے اور امجد کے درمیان بھائیوں ایسی محبت تھی اسے ہنستے ہوئے کہا جو اشتہار شائع ہوئے ہیں ان کی آمدن پر مجھ مسکین کا حق بھی ہے اس کے جواب میں اس نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا چھوڑو یار چندپیسوںسے تمہارا کیا بنے گا میں تو مکان بنا رہا ہوں میرے تو کام آ جائیں گے تم نے کیا کرنا ہے مٹی پائو چنانچہ میں نے ان پر مٹی ڈال دی حالانکہ خود بھی ان دنوں اپنا گھر بنا رہا تھا ۔

پھر یوں ہوا کہ پتہ چلا بہادر کو شوگرکا مرض لاحق ہو گیا ہے بلکہ اتنا پرانا تھا کہ اب اسے انسولین لگانا پڑ رہی تھی اور یہ کام اس کیلئےانتہائی تکلیف دہ اور ناپسندیدہ تھا وہ ساہیوال کا رہنے والا تھا ایک دن وہ اپنے شہر گیا تو اسے ایک شخص نے کہا کہ یہ کیا انسولین کے چکر میں پڑے ہو اسے دفع کرو میں تمہیں ایک ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں وہ صرف ایک ٹیکہ لگاتا ہے اور اس کے بعد پرانی سے پرانی شوگر کا نام ونشان نہیں رہتا چنانچہ وہ اپنے وقت کے اس حکیم لقمان کے پاس گیا اس نے صرف ایک انجکشن لگایا اور واقعی اس کے بعد اسے ساری عمر انسولین کی ضرورت نہیں پڑی اس کا نچلا آدھا دھڑ اسی وقت مفلوج ہو گیا میں اس کی عیادت کیلئے اس کے گھرچلا گیا اور اسے ایک میت کی طرح بستر پر لیٹا دیکھا جو ہل جل نہیں سکتاتھا تو میں سکتے میں آ گیا دو دن بعد اس کی موت فالج کی وجہ سے واقع ہو گئی اناللہ وانا الیہ راجعون اسے ساہیوال میں دفنا دیا گیا مگر آج بھی جو لوگ میرے دفتر آتے ہیں وہ کہتے ہیں بہادر ،بہادر نظر نہیں آ رہا کیا وہ چھٹی پر گیا ہے میں اس دلخراش واقعہ کی تکلیف میں جانے کی بجائے کہتا ہوں ہاں وہ چھٹی پر گیا ہے۔

مجھے اپنی کہانی لکھتے ہوئے کئی ہفتے ہوگئے ہیں لوگوں کی باتیں کرتا رہا ہوں اور یہ بتایا ہی نہیں کہ میرا خاندان بہت وسیع ہے میری سات بہنیں تھیں ایک بچپن ہی میں فوت ہو گئی پانچ کا جنازہ خود میں نے اٹھایا اب صرف ایک بہن ہے ہم دو بھائی تھے اب ایک رہ گیا ہے ضیاءالحق قاسمی جو مزاحیہ مشاعرہ میں بہت مقام رکھتےتھے، ہارٹ فیل سے چل بسے تھے۔میری سب سے بڑی بہن کی ساری عمر دکھ اور تکلیف میں بسر ہوئی اس کے شوہر نے اپنی فطرت کے مطابق ان کا جینا حرام کر رکھاتھا سعادت آپی تو بالآخر اس دنیا سے کوچ کر گئیں اس مظلوم کے علاوہ بچاوہ ظالم بھی نہیں ،باقی پانچ بہنوں اور ان کے شوہر بھی ایک ایک کرکے اس دنیا سے رخصت ہوتے چلے گئے البتہ بھائی جان کے بچے اور بہنوں کی اولاد پھر اولاد در اولادمیں پڑ دادا اور پڑنانا بھی بن چکا ہوں چنانچہ خاندان کے کسی فرد کی شادی میں میری کوئی رشتے دار میرے پاس آتی ہے اور کہتی ہے ماموں جان بتائیں میں کون ہوں میرے فرشتوں کو بھی یاد نہیں ہوتا کہ یہ کس کی بیوی، کس کی ماں اور کس کی بیٹی ہے بس اس کے سوال کے جواب میں’’یبلیاں ‘‘ مارنے لگتا ہوں اب بس ایک میری چھوٹی بہن راشدہ اور اس کا شوہر سید عزیز شاہ حیات ہیں عزیر شاہ میرا پھوپھی زاد بھائی بھی ہے اللہ سب کے پیاروں کو سدا اپنی امان میں رکھے ۔(جاری ہے)

تازہ ترین