• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

شیو اور ناشتے وغیرہ سے فراغت پاکر جب میں ہوٹل سے نکلا تو دروازے پر ماریا سے ملاقات ہوگئی اس کی آنکھیں سوجی ہو ئی تھیں اس کے ساتھ جان ارسلا اور اسکاٹ کے علاوہ وہ جانے پہچانے چہرے بھی تھے جن سے گزشتہ رات جان کے کمرے میں ملاقات ہوئی تھی وہ سب رات والے کپڑوں میں ملبوس تھے اور لگتا تھا جیسے انہیں صبح منہ تک دھونے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی میں نے انہیں ’’ہائے‘‘ کہا اور جواباً ہائے ہائے کی آوازیں سنائی دیں میں دروازہ کھول کر باہر نکلا تو ماریا کی نگاہیں میرا پیچھا کررہی تھیں باہر نکلتے ہی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں کئی سال بعد زنداں کی کسی تنگ و تاریک کوٹھڑی سے رہا ہوا ہوں۔

اگست کے اوائل میں یہاں موسم یوں بھی خوشگوار ہوتا ہے مگر آج کچھ زیادہ ہی خوشگوار تھا یا کم از کم مجھے محسوس ہو رہا تھا میں گلی سے نکل کر ایک قدرے چوڑی سڑک پر آ گیا جہاں چھوٹی دکانوں کا ایک طویل سلسلہ تھا یہاں تھوڑی دیر بعد سائیکل کی گھنٹی سنائی دیتی اور پھر کوئی ڈچ خوبصورت سائیکل پر بیٹھا آہستہ آہستہ پیڈل چلاتا قریب سے گزرجاتا امریکہ میں قیام کے دوران لمبی لمبی کاروں کے جھرمٹ میں میری آنکھیں اس سواری کو دیکھنے اور کان اس کی گھنٹی کی آواز کو سننے کیلئے ترس گئے تھے مجھے یہاں سے اس علاقہ کی جانب جانا تھا جہاں سے ایمسٹرڈیم کی سیر کیلئے لانچیں چلتی ہیں اس خوبصورت شہر میں نہروں کا جال بچھا ہوا ہے اور یہ نہریں شہر کے پررونق بازاروں کے علاوہ تنگ گلی کوچوں میں سے ہو کر گزرتی ہیں۔چنانچہ کچھ دور پیدل چلنے کے بعد میں ایک بس میں بیٹھ کر ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع منزل مقصود تک پہنچ گیا یہاں بے شمار سیاحوں کا ہجوم تھا اور ان کا تعلق کسی ایک ملک سے نہیں تھا بلکہ شوق سیاحت انہیں دنیا کے مختلف خطوں سے کھینچ کر یہاں لے آیا تھا تاہم ان میں سے صرف چھوٹی چھوٹی آنکھوں اور کاغذ پر لگے انگوٹھے کی طرح چپٹی ناکوں والے جاپانی یا سیاہ رنگ نیگرو الگ پہچانے جاتے ورنہ ایک نظر دیکھنے پر بقول شخصے باقی سبھی انگریز لگتے تھے ان سب کی زبانیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔کلچر مختلف تھے تاہم ان سب کا لباس ایک سا تھا یا پھر بحیثیت انسان ان کی جبلتیں یکساں تھیں سیاحت کے دوران یہ دوسری یکساں خصوصیت میری دلچسپی کا خاص مرکز رہی چنانچہ نیو یارک کے ٹائم اسکوائر پر میری ملاقات اگر مسٹرنارمن نامی شخص سے ہوئی تو پہلی ملاقات میں مجھے نارمن ہی لگا مگر تیسری یا چوتھی ملاقات میں یہ عقدہ کھلا کہ یہ نارمن دراصل بھاٹی گیٹ کا عبدالرحمن ہے کیونکہ انسانی برادری کا ایک فرد ہونے کے ناطے سے اس میں محبت نفرت مسرت اور غم کے جذبات بھاٹی گیٹ کے عبدالرحمن سے کسی طرح بھی مختلف نہ تھے بہرحال یہاں دنیا کے سبھی خطوں کے لوگ موجود تھے تاہم ان کی اکثریت اپنے ہاں کے رائج الوقت اخلاقی نظام کی پابند تھی باغی نسل کے افراد یعنی ہپی یہاں بہت کم تعداد میں نظر آئے میں ٹکٹ خرید کر لانچ میں داخل ہونے لگا تو غالباً کسی اخبار کے فوٹو گرافر نے جسٹ اے منٹ پلیز کہہ کر میری توجہ اپنی طرف مبذول کی اور پھر ایک ٹک کی آواز کےساتھ اس نے میری تصویر کھینچ لی شاید اسے گمان گزرا تھا کہ میں اپنے ملک کی کوئی اہم شخصیت ہوں میں نے سرکی ہلکی سی جنبش سے شکریہ ادا کیا اور لانچ میں داخل ہو گیا دروازے کے قریب برائون سی سکرٹ پر چوڑی بیلٹ باندھے اور سفید رنگ کے ٹائٹ بلائوز میں ملبوس ایک بلانڈ BLOND دوشیزہ نے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ مجھے خوش آمدید کہا میں نے ادھر ادھر نگاہیں دوڑاتے ہوئے کھڑکی کے قریب ایک نشست ڈھونڈی اور اس پر براجمان ہوگیا آرام دہ نشستوں اور شیشے کی چھت والی یہ خوبصورت لانچ رنگ برنگے پھولوں سے آراستہ تھی کچھ ہی دیر بعد لانچ مسافروں سے بھر گئی کیپٹن نے بھونپو بجا کر اس کے چلنے کا اعلان کیا ۔انجن کے ہلکے سے شور کے ساتھ لہروں میں ارتعاش سا پیدا ہوا پھر ہم آہستہ آہستہ ساحل سے دور ہوتے چلے گئے ۔پررونق بازار کی عمارتیں پیچھے رہ گئی تھیں لانچ کھلے پانیوں میں داخل ہو رہی تھی ایک مقام پر اس نہر کے وسیع دریا میں تبدیل ہونے کا گمان گزرا مگر یہ شائبہ تھوڑی ہی دیر کیلئے تھا کیونکہ اب اس نے دوبارہ نہر کی شکل اختیار کرلی تھی اور اب یہ شہر کے ایک پررونق بازار میں سے گزر رہی تھی۔ ایک سڑک نہر کے برابر سے گزر رہی تھی جس پر ٹریفک رواں تھا میں نے اپنے کیمرے کے ساتھ سر اور بازو باہر نکالے اور ابھی تصویر کھینچنے ہی کو تھا کہ لانچ ایک سرنگ نما راہ گزرمیں داخل ہو گئی میں نے فوراً خود کو اندر داخل کر لیا لانچ میں ایک لمحہ کیلئےرات ہوئی اور تھوڑی دیر میں دن طلوع ہو گیا میری برابر والی دو نشستوں پر ایک ادھیڑی عمر اطالوی دیہاتی اور اس کی بیوی عجیب سرخوشی اور مسرت کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔ہمارا گارڈمقامی باشندہ تھا جو رواں کمنٹری میں مصروف تھا اور بیچ بیچ میں ہنسانے کی کوشش بھی کر رہا تھا کیونکہ کچھ لوگ واقعی ہنس رہے تھے اور کچھ الگ ہنسنے کی کوشش میں مصروف تھے سامنے والی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک بوڑھے انگریز کو گونج دار قہقہے لگاتے دیکھ کر میں نے بھی اس کی باتوں پر کان دھرا اس کے لب ولہجے سے پہلے تو گمان گزرا کہ وہ انگریزی کی بجائے کوئی اور زبان بول رہا ہے او رپھر غور کرنے پر یہ گمان یقین میں نہ بدل سکا تو اپنے انگریز آقا کی تقلید میں اس کی گلابی انگریزی پر ایک زوردار قہقہہ لگانے کے بعد میں نے اپنا سر دوبارہ کھڑکی کے باہر کیا اور نہر کے کنارے کھڑے نیلے پیلے پھولوں والے درختوں کے عکس پانی میں دیکھنے لگا۔ اب نہر ایمسٹرڈیم کے ایک محلے میں داخل ہو گئی تھی جس کے دونوں جانب رہائشی مکانات تھے نیکروں میں ملبوس گول مٹول بچے گلی میں کھیل رہے تھے اس اثنا میں سجے ہوئے پل کی دوسری سمت سے ایک اور لانچ آتی دکھائی دی جس پر ہماری لانچ کے کیپٹن نے رفتار تیز کر دی اور اس سے پہلے پل کراس کرلیا جب وہ لانچ ہمارے برابر سے گزری تو دونوں کشتیوں کے مسافروں نے مسکراتے چہروں اور ہاتھ کے اشاروں سے ایک دوسرے کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا ۔ (جاری ہے)

تازہ ترین