• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایلون مسک ٹرمپ انتظامیہ کے اہم عہدے سے دستبردار، حکومت میں 73 دن کے سفر کی کہانی

کراچی (رفیق مانگٹ) ایلون مسک، جن کی شناخت ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی کے طور پر تھی، نے 20 جنوری 2025ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی" (ڈوج ) کے سربراہ کے طور پر ایک نیا باب شروع کیا۔ 

اس عہدے پر انہوں نے وفاقی نظام کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن 2اپریل کو انہوں نے اچانک اس عہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

 یہ رپورٹ ان کے 73دن کے سفر کے اہم واقعات، اقدامات مظاہروں اور ان کے فیصلوں کے اثرات کا بیان ہے، جو نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، سی این این، اور ڈیلی میل جیسے معتبر ذرائع سے لی گئی ہے۔

مسک نے یو ایس کو بند کرنے، ایجوکیشن سائنسز کے معاہدوں کی منسوخی ، ملازمین کی برطرفیوں سمیت متنازع اقدامات کئے جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا رہا اور ٹیسلا ٹیک ڈاؤن" تحریک نے 500مظاہرے کئے ، 200 امریکا میں ہوئے ، مسک کی گاڑیوں کو جلانے کے واقعات امریکا اور جرمنی سمیت دیگر ممالک میں بھی رپورٹ ہوئے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹیسلا کے بورڈ نے مسک کو حکومتی عہدے سے مستعفی ہونے کا کہا، ٹرمپ نے بھی کاروبار پر توجہ مرکوز کرنے کی تلقین کردی۔ 

تفصیل کے مطابق 20جنوری کو، جب ٹرمپ نے دوسری بار صدارت سنبھالی، مسک کو ڈوج کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ انہیں "خصوصی سرکاری ملازم" کا درجہ دیا گیا، جس کی مدت 130دن تک محدود تھی۔

 ان کا ہدف ایک ٹریلین ڈالر کی بچت تھا، لیکن اس نے ان کی کمپنیوں اور شہرت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ 

مسک نے اپنے ٹوئٹر (اب ایکس) کے تجربے سے متاثر ہو کر 28 جنوری کو 24 لاکھ وفاقی ملازمین کو ای میل بھیجی، جس میں آٹھ ماہ کی تنخواہ کے بدلے استعفے کی پیشکش کی گئی، 75 ہزار ملازمین نے یہ پیشکش قبول کی، لیکن یہ تعداد سالانہ ریٹائرمنٹ کی شرح سے ملتی جلتی تھی۔ 

مسک نے ٹریژری کے ادائیگی نظام تک رسائی حاصل کی اور یو ایس ایڈ کو بند کر دیا۔ 11فروری کو، انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن سائنسز کے 900ملین ڈالر کے معاہدے منسوخ کیے گئے۔ مسک نے ملازمین سے ان کے کام کی تفصیل مانگی، دھمکی دی کہ جواب نہ دینے والوں کو برطرف سمجھا جائے گا، جس سے افراتفری پھیل گئی۔

 انٹرنل ریونیو سروس کے 20فیصد عملے کو ہٹانے اور کنزیومر فنانشل پروٹیکشن بیورو کو بند کرنے کی تجویز دی گئی۔ ایک امریکی جج نے یو ایس ایڈکی کٹوتیوں کو غیر آئینی قرار دیا، جس سے مسک کے اختیارات محدود ہوئے۔ مسک نے پینٹاگون کا دورہ کیا، جس سے مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہوئے۔ 

سی این این کے مطابق، "ٹیسلا ٹیک ڈاؤن" تحریک نے 500 مظاہرے منعقد کیے، جن میں سے 200 امریکا میں ہوئے ۔ ان مظاہروں کی بنیادی وجہ مسک کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی" (ڈوج ) کے سربراہ کے طور پر کردار اور ان کے متنازع فیصلے ہیں۔

 29 مارچ 2025ء کو "ٹیسلا ٹیک ڈاؤن گلوبل ڈے آف ایکشن" کے نام سے عالمی سطح پر 500 سے زائد مظاہرے ہوئے، جن میں امریکا، کینیڈا، اور یورپ کے شہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مسک نے یورپی سیاست میں مداخلت شروع کی، جس سے یورپی رہنماؤں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ 

نیویارک ٹائمز کے مطابق، مسک نے جنوری میں جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت "الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ"کی حمایت کا اعلان کیا جس پرجرمن رہنماؤں نے "انتخابی مداخلت" کی مذمت کی۔برطانیہ کی ریفارم یو کے کی حمایت اور اسٹارمر پر تنقید، کی برطانوی وزیراعظم نے "جھوٹ" پھیلانے کا الزام لگایا۔ فرانس کے صدر میکرون نے مسک کو "ری ایکشنری انٹرنیشنل" قرار دیا۔یورپ میں سیاسی مداخلت سے ٹیسلا کی یورپ میں مانگ میں 59فیصد کمی ہوئی ۔ ڈیلی میل کے مطابق، مسک نے 2اپریل کو ڈوج سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ تھا، جو مسک کے کام سے مطمئن تھے، لیکن ان کی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ مسک نے خود کو "حکومتی فضول خرچی کا خاتمہ کرنے والا" کہا، لیکن دی اکنامسٹ نے ان کے اقدامات کو "تباہ کن" قرار دیا۔ انہوں نے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کی اور ایجنسیوں کو براہ راست احکامات دیے۔ فاکس نیوز کے انٹرویو میں انہوں نے کہا، "تقریباً کوئی برطرف نہیں ہوا"، لیکن برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق، ایک لاکھ سے زائد ملازمتوں پر اثر پڑا۔ مسک کے اقدامات کے خلاف احتجاج فروری سے شروع ہوا اور مارچ میں عروج پر پہنچا لاس ویگاس میں ٹیسلا گاڑیوں کو آگ لگائی ۔جرمنی میں سات گاڑیاں جلائی گئیں ۔ دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق،یورپ میں 10سے20شورومز کو نقصان پہنچا۔ امریکا میں، 15سے30 واقعات ہوئے۔ ڈیلی میل نے رپورٹ کیا کہ مسک نے ان حملوں کو "ملکی دہشت گردی" قرار دیا اور ان کے خلاف سخت منصوبہ پیش کیا۔ سی این این کے مطابق، 2 اپریل کو ٹیسلا کی فروخت میں کمی اور مظاہروں کے باوجود اس کے شیئرز میں اضافہ ہوا جب افواہ پھیلی کہ مسک ڈوج چھوڑ رہے ہیں۔ 

دسمبر 2024ء کے 263.55ڈالرسے شیئرز 45 فیصد گر کر 145 ڈالر تک پہنچے تھے، لیکن 2 اپریل کو معمولی بحالی ہوئی۔ مسک کی دولت میں 126 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ فاکس نیوز کو انٹرویو میں مسک نے کہا، "حکومت میں ہونا میری کمپنیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

" ڈیلی میل کے مطابق، ٹرمپ نے کہا، "ایلون نے اچھا کام کیا، لیکن اب وہ اپنی کمپنیوں پر توجہ دے گا۔" ان کی دستبرداری کا اعلان 2 اپریل کو شام 8:41 بجے پر ہوا، جو ان کے 130 دن کے دور سے 57دن پہلے تھا۔20جنوری سے 2 اپریل تک، مسک نے ڈوج کے ذریعے وفاقی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس سے 600سے زائدمظاہرے، 15سے30نقصان کے واقعات، اور قانونی چیلنجز سامنے آئے۔

 ان کی دستبرداری سے ٹیسلا کے شیئرز میں کچھ استحکام آیا، لیکن ان کے سیاسی کردار کے اثرات برسوں تک محسوس ہوں گے۔

اہم خبریں سے مزید