• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان اور پاکستان میں سویت اور نیٹو اسلحے کی اسمگلنگ تاحال جاری

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

سوویت اور نیٹو افواج کی جانب سے چھوڑے گئے اسلحے کی اسمگلنگ افغانستان اور پاکستان میں جاری ہے۔

جنیوا کی تنظیم اسمال آرمز سروے کی جانب سے افغانستان میں اسلحے کی دستیابی کو دستاویزی شکل دینے کے عنوان سے شائع ہونے والے تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان کے مشرقی علاقوں اور پاکستان کے قبائلی اضلاع میں سوویت اور نیٹو افواج کا چھوڑا گیا اسلحہ اب بھی دستیاب ہے۔

تحقیق کے مطابق طالبان حکومت کے تحت اسلحے پر پابندیوں کے باوجود غیر قانونی تجارت جاری ہے، جس میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ممنوعہ تنظیمیں جیسے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ کو مسلسل اسلحہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈیوں میں روایتی ہتھیاروں کے نظام کے حصول کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکس بشمول ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے ساتھ تعلقات سرحد پار اسمگلنگ روکنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2022ء سے 2024ء کے دوران افغانستان و پاکستان سرحدی علاقوں میں غیر رسمی اسلحہ بازار فعال رہا، جہاں امریکی M4 رائفل کی قیمت 2 ہزار 2 سو ڈالرز سے 4 ہزار 8 سو ڈالرز تک رہی، جبکہ پاکستان میں اسلحے کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔

رپورٹ کے مطابق نائٹ وژن ڈیوائسز کی قیمتوں میں 70 فیصد تک کمی آئی ہے، جبکہ M4 اور M16 رائفلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسلحے کی یہ فراہمی سرحد پار اسمگلنگ اور مقامی طالبان کی مبینہ شمولیت کے باعث ممکن ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید