بھارت میں متنازع وقف ترمیمی بل کی لوک سبھا کے بعد راجیا سبھا سے منظوری پر بھارت بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے، اپوزیشن جماعتوں نے متنازع بل کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے متنازع بل کی آئینی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، متنازع بل کے خلاف احمد آباد، کولکتا اور چنئی سمیت بھارت بھر میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
مظاہرین نے مقدس اثاثوں پر سیاست نامنظور کے بینر اٹھائے ہوئے تھے، مظاہرین نے حکومت سے متنازع بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ سرکاری اندازوں کے مطابق بھارت میں 25 وقف بورڈز کے پاس تقریباً 8 لاکھ سے زائد جائیدادیں اور 9 لاکھ ایکڑ زمین موجود ہے۔
مودی حکومت نے مسلمانوں کی وقف کردہ زمین کے انتظام میں زبردست تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا ہے جس سے حکومت اور مسلمانوں کے درمیان ممکنہ طور پر کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
زمین اور جائیدادیں وقف کے زمرے میں آتی ہیں جو مذہبی، تعلیمی یا خیراتی مقاصد کے لیے کسی مسلمان کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں اور ایسی اراضی کو منتقل یا فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت اور مسلم تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً 8 لاکھ 51 ہزار 5 سو 35 جائیدادیں اور 9 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جس سے وہ بھارت کے سرِ فہرست تین بڑے زمینداروں میں شامل ہوتا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے پیش کردہ وقف (ترمیمی) بل میں مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس سے حکومت کو متنازع وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار مل جائے گا۔
یہ قانون مسلم برادری اور مودی حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔