• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برصغیر کی تاریخ میں علامہ محمد اقبال کا نام ایک عظیم شاعر، فلسفی، مفکر اور دوراندیش رہنما کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے ایسے دور میں مسلمانوں کو بیدار کیا جب وہ سیاسی، معاشی اور تعلیمی زوال کا شکار تھے۔ اقبال نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے مسلمانوں میں خود اعتمادی، اتحاد، عمل اور اپنی قومی شناخت کا شعور پیدا کیا۔

ان کے افکار نے تحریکِ پاکستان کو ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کی اور مسلمانوں کو ایک ایسے مستقبل کا تصور دیا جہاں وہ اپنی تہذیبی اور مذہبی اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ اسی لیے قیامِ پاکستان کی تاریخ کو علامہ اقبال کے فکری کردار کے بغیر مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔1857ء کے بعد برصغیر کے مسلمان ایک مشکل دور سے گزر رہے تھے۔ سیاسی اقتدار کے خاتمے، معاشی کمزوری اور جدید تعلیم سے دوری نے ان کی حالت کو مزید دشوار بنا دیا تھا۔

ایسے حالات میں سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف متوجہ کیا، جبکہ بعد میں علامہ اقبال نے ان کے اندر فکری خود اعتمادی اور سیاسی شعور پیدا کیا۔ اقبال نے محسوس کیا کہ مسلمان اگر اپنی شناخت، تہذیب اور اجتماعی مفادات سے غافل رہے تو وہ مستقبل میں مزید کمزور ہو جائیں گے۔اقبال کی فکر کا مرکزی تصور خودی تھا۔ خودی سے مراد انسان میں خود شناسی، خود اعتمادی، کردار، مقصد اور عمل کا شعور پیدا کرنا ہے۔

اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان احساسِ کمتری سے نکلیں اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں۔ ان کے نزدیک زندہ قومیں مشکلات سے گھبراتی نہیں بلکہ اپنے عزم اور کردار کے ذریعے حالات کو تبدیل کرتی ہیں۔ یہی پیغام ان کی شاعری میں بار بار سامنے آتا ہے اور یہی فکر آگے چل کر مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ بنی۔ اقبال مسلمانوں کو محض ماضی کی عظمت یاد کرنے کی دعوت نہیں دیتے تھے بلکہ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے شاندار ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کی تعمیر کریں۔

ان کے نزدیک قوم کی ترقی کے لیے علم، عمل، اتحاد اور بلند کردار بنیادی ضرورت تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو خاص طور پر مخاطب کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ کسی قوم کا مستقبل اس کی نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ان کا شاہین بلند حوصلے، آزادی، خود اعتمادی اور مسلسل جدوجہد کی علامت تھا۔علامہ اقبال کے سیاسی افکار میں مسلمانوں کی جداگانہ قومی حیثیت کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ان کے نزدیک برصغیر کے مسلمان اپنی مذہبی، تہذیبی، تاریخی اور معاشرتی خصوصیات کے اعتبار سے ایک منفرد قوم تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کو ایسا سیاسی ماحول ملنا چاہیے جہاں وہ اپنی اقدار اور اجتماعی زندگی کو آزادانہ طور پر فروغ دے سکیں۔ یہی سوچ بعد میں دو قومی نظریے کی فکری بنیادوں میں شامل ہوئی۔1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقبال نے ایک تاریخی تصور پیش کیا۔ خطبۂ الہ آباد میں انہوں نے برصغیر کے شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک سیاسی وحدت میں منظم کرنے کی بات کی۔

یہ تصور مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ان کی گہری سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔ اگرچہ اس وقت پاکستان کے موجودہ نام اور شکل میں کوئی باقاعدہ ریاستی منصوبہ سامنے نہیں آیا تھا، لیکن اقبال کے خطاب نے مسلمانوں کو ایک واضح سیاسی سمت ضرور فراہم کی۔ اقبال کا تصور صرف ایک الگ خطے کے قیام تک محدود نہیں تھا۔

وہ ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں عدل، مساوات، انسانی وقار اور اجتماعی فلاح کو اہمیت حاصل ہو۔ ان کے نزدیک ریاست کا مقصد صرف سیاسی اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا بھی تھا جہاں افراد اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور معاشرے میں انصاف اور ذمہ داری کو فروغ حاصل ہو۔

علامہ اقبال کی سیاسی بصیرت کا ایک اہم پہلو قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ان کا تعلق بھی تھا۔ اقبال نے قائداعظم کی قیادت میں مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے لیے امید دیکھی۔ ان کے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے سیاسی مسائل اور مستقبل کے بارے میں گہری فکر رکھتے تھے۔ انہوں نے قائداعظم پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت سنبھالیں اور انہیں ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم پر متحد کریں۔

اقبال 1938ء میں وفات پا گئے، لیکن ان کے افکار تحریکِ پاکستان کے ساتھ زندہ رہے۔ قائداعظم نے مسلم لیگ کو منظم کیا، مسلمانوں کو متحد کیا اور ان کے سیاسی مطالبے کو ایک واضح شکل دی۔ 1940ء کی قراردادِ لاہور نے مسلمانوں کی جدوجہد کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا۔ اس کے بعد تحریکِ پاکستان نے تیزی سے پیش رفت کی اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

قیامِ پاکستان ایک عظیم تاریخی کامیابی تھی، لیکن اقبال کے خواب کی تکمیل صرف ایک آزاد ملک کے قیام سے نہیں ہوتی۔ آزادی دراصل ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ایک آزاد قوم کو اپنے ملک کو مضبوط بنانے، اپنے اداروں کو بہتر بنانے اور اپنے شہریوں کے لیے بہتر مستقبل پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرنا پڑتی ہے۔ آج ہمیں اقبال کے افکار کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کو آج معاشی مشکلات، تعلیمی مسائل، بے روزگاری، غربت، سماجی تقسیم اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اقبال کے پیغامِ خودی، علم، عمل اور اتحاد سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جدید تعلیم اور فنی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہوگا تاکہ وہ عالمی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔تعلیم اقبال کے خواب کی تکمیل کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ موجودہ دور سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور اختراع کا دور ہے۔ جو قومیں علم میں آگے ہیں وہی معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط ہیں۔ پاکستان کو اگر ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھنا ہے تو تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔

نوجوانوں کو صرف ملازمت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ تخلیقی سوچ اور کاروباری صلاحیتوں کے لیے بھی تیار کرنا ہوگا۔قومی اتحاد بھی اقبال کے پیغام کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور روایات کا ملک ہے۔ یہ تنوع ہماری طاقت بن سکتا ہے اگر ہم اسے اختلاف اور تقسیم کے بجائے قومی یکجہتی کا ذریعہ بنائیں۔ سیاسی اختلافات جمہوری معاشرے کا حصہ ہیں، لیکن انہیں نفرت اور دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی سلامتی اور ترقی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اقبال کے تصور میں انصاف اور انسانی مساوات کو بھی بنیادی مقام حاصل ہے۔ 

اسپیشل ایڈیشن سے مزید