ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کو روکنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو حکومت خطے کو تباہی کی طرف گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ترک صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران پر اسرائیل کا حملہ واضح اشتعال انگیزی ہے۔
اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی نے بھی پوپ لیو کے خلاف ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے اور ٹرمپ کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
امریکا کی سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی غیر متوازن سوشل میڈیا پوسٹوں کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جائی مونگ نے فلسطین پر اسرائیلی بربریت کو ہولوکاسٹ سے تشبیہ دیدی جس پر اسرائیلی لابی نے انکے خلاف طوفان کھڑا کردیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر اپنی اے آئی جنریٹڈ تصویر جس میں انہوں نے خود کو یسوع مسیح کے طور پر پیش کیا شدید تنقید کے بعد ڈيلیٹ کردی ہے۔
الجزائر کے دورے پر آئے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے جوتے اتار کر جامع مسجد کا دورہ کیا، خاموش مراقبہ کیا، باہمی احترام اور امن قائم کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ توقع ہے ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے کی جانب پیش رفت کرے گا۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی جنگ روکنا ضروری ہے اور روس تصفیے میں مدد کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد کہ ایران ڈیل چاہتا ہے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایران کے چیف مذاکرات کار نے کہا کہ پوپ کی جانب سے ادا کیے گئے یہ الفاظ کہ مجھے خوف نہیں، اسرائیل اور امریکا کے جنگی جرائم کی مذمت کے ساتھ یہ الفاظ گونج رہے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہفتوں کی تباہی اور اضطراب کے بعد یہ واضح ہوچکا ہے۔
ایرانی فوج نے امریکی ناکا بندی پر ردعمل دیا اور کھلے سمندر میں جہازوں پر امریکی پابندیوں کو قزاقی کہہ دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی عہدیدار کا بیان پاکستان میں ہونے والےمذاکرات کےبعد سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم کسی ملک کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ایران نے پیغام بھیجا تھا کہ وہ بے تابی سے ڈیل چاہتے ہیں۔
اپنے بیان میں جوکینٹ نے کہا کہ ایران نے 2003 سے نیو کلیئر ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے،
امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی پر اپنے بیان میں کہا کہ ناکا بندی کےدوران ایرانیوں کی جانب سے فائرنگ متوقع ہے۔
یورپ میں خوراک کی درآمدات کے نئے یورپی قانون کے نفاذ سے پاکستانی خوراک کی مصنوعات کی برآمدات کو بھی خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ خطرہ بنیادی طور شہد کی مکھیوں کو نقصان پہنچانے والی ان زرعی ادویات کے استعمال کی وجہ سے ہے جن میں یورپ میں تو پابندی ہے لیکن مبینہ طور پر وہ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں میں اب بھی استعمال ہو رہی ہیں۔