• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں تیز بارش، بے گھر خاندان مزید مشکلات میں گِھر گئے

زمین سے پانی اترا نہیں، آسمان سے اور برس گیا، پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں موسلادھار بارش سے بے گھر ہونے والے مزید مشکلات کے ریلے میں گھِر گئے، پہلے سے ڈوبے علاقوں میں پانی اور بڑھ گیا۔

لاہور، چنیوٹ، وزیر آباد ،گجرات، ننکانہ صاحب اور نارووال میں بارشوں کے بعد نشیبی علاقوں کی صورت حال خراب ہے، جہلم میں ندی نالے بپھر گئے، مدرسے کی چھت پر پھنسے بچوں کو بچا لیا گیا۔

لاہور میں چوہنگ میں سیلابی پانی میں کمی ہوگئی، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اب بھی پانی موجود ہے، علاقوں میں رابطہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، پھول نگر سرائے مغل اور نواحی علاقوں میں بد ترین سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، جسڑ کے مقام پر سیلاب متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے، کھانے پینے کی اشیا ختم ہونے کی شکایت بھی سامنے آئیں۔

دریائے راوی میں بلوکی اور دریائےستلج میں گنڈاسنگھ والا کےمقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آیا، دریائے چناب پر 1169، دریائے راوی پر 478 اور دریائے ستلج پر 391  دیہات متاثر ہوئے۔

دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیر آباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانے کے بعد جھنگ میں داخل ہوگیا، کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے، سیکڑوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئیں، رابطہ سڑکیں پانی میں غائب ہوگئیں۔

متاثرہ علاقوں میں کئی افراد محصور ہوگئے، سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو کشتیوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 135 دیہات پانی کے گھیرے میں آگئے۔

ملتان میں سیلاب سے تحصیل شجاع آباد کی فصلوں میں پانی داخل ہوگیا، 140 دیہات پانی سے متاثر ہوئے۔

دریائے راوی میں جسڑ اور شاہدرہ پر پانی کے بہاؤ میں کمی آئی، بلوکی ہیڈ ورکس پر اضافہ ہوگیا، پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 11 ہزار کیوسک سے اوپر چلا گیا، تمام اسپل ویز کھول دیے گئے، اطراف کے کئی گاؤں اور مویشی متاثر ہوگئے، ہزاروں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئیں۔

نارووال میں نہر ایم آر لنک کا بند ٹوٹ گیا، نہری پانی قریبی گاؤں میں داخل ہوگیا، 20 کے قریب دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ننکانہ صاحب میں ہفت مدر کے قریب بند میں شگاف پڑگیا، پانی شہری علاقے کی جانب بڑھنے کا خدشہ ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید