• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موت سے متعلق جھوٹی افواہوں کے سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ نے ہلچل مچادی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موت سے متعلق جھوٹی افواہوں کے سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ نے ہلچل مچادی۔

یہ افواہیں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب وائٹ ہاؤس کی آفیشل لائیو اسٹریم میں ایک تکنیکی خرابی پیش آئی اور اسکرین پر عارضی طور پر پیغام ظاہر ہوا کہ ساتھ رہیں، ہم جلد ہی دوبارہ لائیو ہوں گے Stay tuned we’ll be live) (again shortly  محض چند لمحوں کے اس پیغام نے سوشل میڈیا پر مزید تجسس کو ہوا دی۔

صدر ٹرمپ کی معمول کے عوامی شیڈول سے غیرحاضری بھی افواہوں کو تقویت دیتی رہی، خاص طور پر ایکس پر ٹرمپ کی مرنے کی خبر نے بہت تیزی سے ٹرینڈ کرنا شروع کر دیا۔

سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں بعض صارفین نے دی سمپسنز کارٹون سیریز کی ایک جعلی کلپ شیئر کی، جس میں مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کی موت کی پیشگوئی دکھائی گئی تھی۔

 یہ ویڈیو انسٹاگرام پر 25 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھی گئی اور پھر ایکس پر وائرل ہوگئی، تاہم سمپسنز کے ایگزیکٹو پروڈیوسر میٹ سیلمن نے وضاحت دی کہ یہ فوٹیج جعلی یا اے آئی سے تیار کردہ ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس کے ایک معمول کے بیان کو بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر شیئر کیا گیا، انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ٹرمپ مر جائیں تو میں ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہوں۔

یہ دراصل صدارتی جانشینی کے حوالے سے روایتی بات تھی، مگر صارفین نے اسے سلپ آف ٹنگ یا پیشگی اشارہ قرار دیتے ہوئے وائرل کردیا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے معالج ڈاکٹر شان پی باربابیلا نے جولائی 2025ء میں تصدیق کی تھی کہ صدر کو Chronic Venous Insufficiency یعنی ایک عام دورانِ خون کی تکلیف لاحق ہے جو جان لیوا نہیں۔

اپریل 2025ء کی میڈیکل رپورٹ میں صدر کو انتہائی صحت مند قرار دیا گیا تھا اور ان کے ذہنی معائنہ کے نتائج بھی مکمل درست آئے تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کی موت کی جھوٹی خبریں پھیلائی گئی ہوں، 2022ء میں بھی اسی نوعیت کی افواہیں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرچکی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید