• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہارٹ اٹیک کے بعد خواتین کو دی جانے والی کون سی دوا خطرناک ہوسکتی ہے؟ تحقیق میں نام سامنے آگیا

فائل فوٹوز
فائل فوٹوز

ایک نئی طبی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ دل کے دورے کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا بیٹا بلاکرز (Beta-blockers) زیادہ تر مریضوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتی بلکہ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ دوا خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق دل کا دورہ پڑنے کے بعد جن خواتین کے دل کو کم نقصان پہنچتا ہے اگر انہیں بیٹا بلاکرز دی جائیں تو ان کو دوبارہ دل کا دورہ پڑنے، ہارٹ فیل ہونے اور یہاں تک کہ موت کے امکانات تین گنا تک بڑھ جاتے ہیں۔

 یہ نتائج حال ہی میں یورپی ہارٹ جرنل میں شائع ہوئے اور اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں منعقدہ یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کانگریس میں بھی پیش کیے گئے۔

اس تحقیق کی سربراہی ڈاکٹر ویلنٹین فسٹر نے کی جو نیویارک کے ماؤنٹ سینائی فسٹر ہارٹ اسپتال کے سربراہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ نتائج عالمی سطح پر ہارٹ اٹیک کے بعد علاج سے متعلق رہنما اصولوں کو بدل دیں گے اور خواتین و مرد کے لیے الگ الگ علاج کی ضرورت پر زور دیں گے۔

تحقیق کے مطابق یہ خطرات خاص طور پر ان خواتین میں زیادہ دیکھے گئے ہیں جو بیٹا بلاکرز کی زیادہ مقدار لیتی تھیں، تاہم وہ مریض جن کا ایجیکشن فریکشن (دل کے خون پمپ کرنے کی صلاحیت کا پیمانہ) 40 فیصد سے کم ہو، ان کے لیے یہ دوا اب بھی مؤثر اور ضروری ہے کیونکہ یہ بے ترتیب دھڑکن کو کنٹرول کر کے دوسرا دورہ روک سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ بیٹا بلاکرز کے کئی ضمنی اثرات ہوتے ہیں جس میں بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر کم ہونا، تھکن اور موڈ میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

دل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ایک بڑے کلینکل ٹرائل ریبوٹ (REBOOT) کے تحت حاصل کیے گئے ہیں جس میں اسپین اور اٹلی کے 109 اسپتالوں کے 8500 مریض شامل تھے، نتائج نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مرد و خواتین جن کا دل 50 فیصد یا اس سے زیادہ کارکردگی دکھا رہا ہو، بیٹا بلاکرز کے استعمال سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق جدید علاج جیسے اسٹنٹس اور بلڈ تھنرز نے ہارٹ اٹیک کے بعد مریضوں کی حالت بہتر بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے اور اسی وجہ سے پرانی ادویات کی ضرورت کم ہوگئی ہے۔

صحت سے مزید