• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیو جرسی میں میئر کا الیکشن، مصعب علی نے خوب مقابلہ کیا!

پاکستانی امریکن مصعب علی—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
پاکستانی امریکن مصعب علی—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی امریکن مصعب علی نیو جرسی ریاست کے شہر جرسی سٹی کا میئر بننے میں کامیاب نہ ہو سکے تاہم انہوں نے خوب مقابلہ کیا۔

غیر جماعتی بنیاد پر الیکشن لڑنے والے مصعب علی کا مقابلہ کرسٹینا فریمین، کالکی جائنی روز، جم مک گریوی، بل او ڈیا، جیمز سولومون اور جوائس واٹرمین سے تھا۔

معصب نے 10 ہزار 843 ووٹ لیے، سٹی کونسل رکن جیمز سولومون 17 ہزار 200 ووٹ لے کر سرِ فہرست رہے جبکہ جم مل گریوی 15 ہزار 42 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔

اب جیمز سولومون اور جم مل گریوی کے درمیان رن آف الیکشن ہوگا۔

چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والے مصعب علی 1997ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور 2000ء میں اپنے والدین کے ساتھ جرسی سٹی منتقل ہوئے تھے۔

مصعب کو امریکا آئے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ ان کے والد کو نوکری سے نکال دیا گیا اور ان کی ٹیچر والدہ کو حجاب کرنے پر شدید تعصب کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

یہ 11 ستمبر کے بعد کی صورتِ حال تھی جس نے مصعب علی کو انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی جانب مائل کیا۔

مصعب کے والد اور والدہ دونوں ہی یونین ورکرز رہے ہیں، ان کی والدہ ایجوکیٹر اور والد پوسٹل ورکر ہیں۔

مصعب نے پبلک اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے، ماسٹرز کی ڈگری چین سے لی اور ہارورڈ لاء اسکول سے جوریس ڈاکٹر کی ڈگری لی، ہارورڈ یونیورسٹی ہی میں وہ اسٹوڈنٹ باڈی کے شریک صدر بھی رہے۔

پہلے دورِ صدارت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو وہ اپنے سیاست میں آنے کی اہم وجہ قرار دیتے ہیں، نومبر 2016ء میں مصعب نے جرسی سٹی میں اپنے مقامی اسکول بورڈ کیلئے الیکشن لڑا تھا۔

مصعب پہلا الیکشن ہار گئے تھے مگر 2017ء میں وہ 68 ووٹوں کی برتری سے اس عہدے پر منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ وہ وقت تھا جب مصعب نیویارک کی رٹگرز یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور عمر 20 برس تھی۔اس طرح انہیں جرسی سٹی کی تاریخ میں کم عمر ترین منتخب افسر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

ساتھ ہی وہ اس وقت امریکی تاریخ کے کم عمر ترین منتخب مسلم عہدیدار بھی تسلیم کیے گئے تھے۔ 2018ء میں وہ دوبارہ منتخب ہوئے۔ اس بار انہیں 23 ہزار ووٹ ملے تھے۔

2021ء میں وہ جرسی سٹی بورڈ کے صدر بنے۔ انہوں نے ٹیچرز کی تنخواہیں بڑھانے کی مہم چلائی، اسطرح کم سے کم تنخواہ 17 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کی اور کم سے کم سالانہ تنخواہ 61 ہزار مقرر کرنے کی کامیاب مہم چلائی۔

مصعب نے اسٹوڈنٹ لنچ قرضہ ختم کرنے کی بھی کامیابی سے وکالت کی۔ اسٹوڈنٹ بورڈ سیٹ قائم کی اور اسکولوں کو بہتر بنانے کیلئے بجٹ ترجیحات میں طالبعلموں کے مشورے لازمی قراردیے۔

مصعب ایک اچھے فائٹر ہیں کیونکہ جب وہ ہارورڈ میں فائنل ایئر کے طالبعلم تھے، انہیں ہاجکنز لمفوما کا اسٹیج فور تشخیص کیا گیا تھا۔ وہ کیموتھراپی کے بارہ راونڈز کے دوران بھی بورڈ کی صدارت کے فرائض انجام دیتے رہے اور بلآخر کینسر کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔

جرسی سٹی کے مئیر کا الیکشن ہارنے کے باوجود یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک بار پھر میدان میں اتریں گے اور پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہونے کی کوشش کریں گے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید