• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: عیدالاضحیٰ پر قتل کے الزام میں مسلم نوجوان مقابلے میں ہلاک

---فوٹوز بشکریہ بھارتی میڈیا
---فوٹوز بشکریہ بھارتی میڈیا 

بھارتی ریاست اتر پردیش میں عیدالاضحیٰ کے روز 17 سالہ لڑکے کے قتل کے الزام میں مسلم نوجوان کو پولیس نے رات گئے مقابلے میں ہلاک کر دیا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ مبینہ قاتل نوجوان مفرور تھا اور اس کی گرفتاری پر 50 ہزار روپے انعام بھی مقرر تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 2 تھانوں کی مشترکہ کارروائی کے دوران ملزم نے فائرنگ کی جس کے جواب میں کی گئی کارروائی میں وہ زخمی ہو گیا، اسپتال منتقل کیے جانے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

ریاست کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہندو مسلم فسادات کو ہوا دیتے ہوئے واقعے پر ردِعمل میں کہا کہ دوستی کی آڑ میں قتل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے والدین کو بھی اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے مسلم نوجوان کے خلاف جعلی پولیس مقابلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے رہنما ابو عاصم اعظمی کا کہنا ہے کہ اتر پردیش میں ملزم کے مذہب کو دیکھ کر مقابلے کیے جاتے ہیں۔

کانگریس رہنما حسین دلوائی نے کہا ہے کہ حکومت کو قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مسلم نوجوان پر الزام تھا کہ اس نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مقتول کو 28 مئی کو غازی آباد میں چاقو کے وار کر کے قتل کیا تھا۔

واقعے کے بعد شدید احتجاج ہوا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

پولیس مقابلے کے بعد مقتول کی والدہ نے قتل میں ملوث دیگر ملزمان کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید