• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا میں کچھ بھی ممکن ہے، رکن ڈیموکریٹک پارٹی کا ظہران ممدانی کی جیت پر ردعمل

نیو یارک سے امریکی ایوان نمائندگان کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا ممدانی کی جیت پر خوشی کا اظہار(تصویر سوشل میڈیا)۔
نیو یارک سے امریکی ایوان نمائندگان کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا ممدانی کی جیت پر خوشی کا اظہار(تصویر سوشل میڈیا)۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن اور نیویارک سے امریکی ایوان نمائندگان کی رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے ظہران ممدانی کی فتح کا جشن مناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں کچھ بھی ممکن ہے۔

وائٹ ہاؤس کی سابق ڈائریکٹر الیسا فرح گریفتھ نے کہا ظہران ممدانی کی تقریر سوشلسٹ نظریات کا دفاع تھی، انہوں نے ممدانی کو لیفٹ ونگ کا ٹرمپ قرار دے دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کی تجزیہ کار کارا سوئشر نے کہا ممدانی کی مہم نے عوام کو متاثر کیا کیونکہ وہ لوگوں کے جذبات سے جڑی تھی، لوگ انہیں سننا چاہتے تھے۔

معروف ہالی ووڈ جریدے نے لکھا ظہران ممدانی کی کامیابی لبرل ہالی ووڈ کیلئے اہم ہے، لبرل ہالی ووڈ میں ممدانی کی امیدواری پر اختلاف تھا لیکن ان کی کامیابی سے کچھ اختلافات ختم ہو سکتے ہیں۔

برطانوی ٹی وی اسکائی نیوز کی اینکر نے ہالی ووڈ اداکار کو ممدانی کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

ادھر نیو یارک کے مال دار کاروباری افراد نے ظہران ممدانی کی جیت کے بعد محتاط حمایت کا اعلان کر دیا۔ معروف ارب پتی اور ممدانی کے سخت ناقد بل ایکمین کا لہجہ نرم پڑگیا اور انھوں نے ممدانی کو تعاون کی پیشکش کر دی۔ 

وال اسٹریٹ کے بااثر ترین سرمایہ کار رالف شلوسٹین نے کہا سخت الیکشن مہم کے بعد نیویارک کے متحد ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

دوسری جانب کچھ سرمایہ کار ممدانی کے سوشلسٹ خیالات کی وجہ سے اب بھی محتاط نظر آ رہے ہیں۔ ایک ہیج فنڈ منیجر نے کہا ہم دنیا کے عظیم ترین سرمایہ دارانہ شہر میں سوشلسٹ کو برداشت نہیں کر سکتے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید