سیاسی و عمرانی علوم کے ماہرین کو عمران خان کا مشکور و ممنون ہونا چاہئے کہ انہوں نے علم و فکر کی کئی گتھیاں سلجھانے میں کلیدی کردار اداکیاہے۔مثال کے طور پر البرٹ آئن اسٹائن نے تو کہہ دیا کہ عقلمندی کی انتہا ہو سکتی ہے مگر بیوقوفی کی کوئی انتہا نہیں،لیکن یہ بات ہضم نہیں ہو پا رہی تھی۔اسی طرح رسوائی اور جگ ہنسائی کے بارے میں بھی یہی سنا تھا کہ اس کی کوئی حد نہیں ہوتی مگر عمران خان نے یہ معمہ حل کر دیا۔کیسے حل کر دیا؟ خبر یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے عمران خان کی نااہلی کیلئے ریفرنس دائر کیا ہے جس میں آف شور کمپنی بنانے ،اثاثے چھپانے اور ٹیکس چرانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔یہ ریفرنس تو سیاسی نوعیت کے دائو پیچ کا حصہ ہے لیکن وہ 77لاکھ ووٹرز جنہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو ووٹ دیا ،ان سب کو ملکر عمران خان کے خلاف ضرورریفرنس دائر کرنا چاہئے کیونکہ عمران خان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے اس نے عوامی مینڈیٹ کی توہین کی اور اپنے چاہنے والوں کو رسواء کیا۔
عوام نے عمران خان کومسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی روایتی سیاسی اجارہ داری توڑنے کا موقع فراہم کیا مگراس نے پےدرپے غلطیوں سے یہ موقع گنوا دیا۔اگر عمران خان کنٹینر کی سیاست کرنے کے بجائے خیبر پختونخوا کو تبدیلی کارول ماڈل بنانے پر توجہ دیتےتوآج سیاسی منظر نامہ ہی کچھ اور ہوتا۔ان کے ورکرزنے خیبر پختونخوا کے بجائے سوشل میڈیا پر جو انقلاب برپا کیا تھا اب تو اس کی حقیقت بھی طشت ازبام ہونے لگی ہے۔پشاور میں تین تھانوں کو ماڈل پولیس اسٹیشن بنا کر دلکش تصویریں بنائی گئیں اور یہ ڈھنڈورا پیٹا جانے لگا کہ کے پی پولیس کو ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا گیاہے۔کسی نے یہ جاننے کی زحمت گوارا نہ کی کہ صوبے کے 282پولیس اسٹیشنز میں سے نصف سے زائد کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں اور قیام پاکستان سے پہلے کی عمارتوں میں کام کر رہے پشاور کے بیشتر پولیس اسٹیشن تو باقاعدہ بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتے ہیں بتایا گیا کہ پولیس کلچر تبدیل کر دیا گیا ہے ،اب پولیس بہت بااخلاق ہو گئی ہے۔میں نے پہلے بھی عرض کیاکہ اس میں موجودہ حکومت کا کوئی کمال نہیں بلکہ علاقائی و سماجی ثقافت کا عمل دخل ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس میں رشوت اور سفارش کا رجحان ماضی کی طرح اب بھی موجود ہے۔پھر یہ خوش فہمی پھیلائی گئی کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر دیا گیا ہے۔پولیس ارکان اسمبلی اور وزراء کی مداخلت سے کس قدر محفوظ ہے اس کا ٹریلر تو چند روز قبل سب نے دیکھ لیا کہ ایم این اے مراد سعید کے والد کا چالان کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا اور جب میڈیا میں شور مچ گیا تو کہا جا رہا ہے کہ انکوائری ہوگی۔ڈی پی اوتو بہت دور کی بات ایس ایچ او بھی متعلقہ ایم پی اے یا ایم این اے کی مرضی کے بغیر نہیں لگتا۔ایک مرتبہ میرے سامنے ایک پرائمری اسکول کے نائب قاصد کے تبادلے کے احکامات لائے گئے جس پر لکھا تھا کہ قابل احترام سینئر وزیر کی ہدایت پر آپ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔
تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں نے پہلے دو برس تو اس ہینگ اوور میں گزار دیئے کہ وہ قانون ساز ہیں اور ان کاکام ترقیاتی کام کروانا نہیں بلکہ ایوان چلانا ہے۔بعد میں کسی نے سمجھایا کہ یہ روش رہی تو کس منہ سے ووٹ مانگنے جائو گے۔مگر اب بھی نمائشی نوعیت کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔مثال کے طور پر چند روز قبل نہایت عجلت میں صوبائی اسمبلی سے ایک بل منظور کروایا گیا جس کی رو سے عوامی عہدوں پر موجود افراد کسی قسم کا کاروبار نہیں کر سکیں گے۔نومبر 2014ء میں یہ بل پیش ہوا تو اس کی 65شقیں تھیں مگر چند روز قبل منظور ہوا تو ترامیم کے بعد صرف 25شقیں رہ گئیں۔پبلک آفس ہولڈر جن پر قدغن لگائی گئی ہے ان میں گورنر ،وزیر اعلیٰ، اسپیکر ،صوبائی وزراء ،وزیراعلیٰ کے مشیراور معاونین ،چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور سیکرٹری شامل ہیں۔پولیس ،عدلیہ اور دیگر سرکاری افسران کو استثنیٰ دیدیا گیا ہے۔پرانے مسودے میں بلدیاتی نمائندے بھی پبلک آفس ہولڈر کی کیٹیگری میں آتے تھے مگر ترمیم شدہ مسودے میں انہیں نکال دیا گیا ہے کیونکہ وزیراعلیٰ کے بھائی اور علی امین گنڈا پور کے بھائی ضلع ناظم ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون بننے کے بعد اب صوبائی وزراء اپنے کاروباری ادارے شوکت خانم اسپتال کیلئے وقف کر دیں گے؟ایک صوبائی وزیر کی تعمیراتی کمپنی ہے،ایک صوبائی وزیر ٹوبیکو انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ ہیں،ایک اور وزیر کے تعلیمی ادارے ہیں اور یہ محض حسن اتفاق ہے کہ مالاکنڈ بورڈ کا رزلٹ آتا ہے تو تمام پوزیشنیں ان کے ادارے کے طلبہ حاصل کرتے ہیں۔اب لامحالہ یہی ہو گا کہ قانون سے بچنے کیلئے ان کاروباری اداروں کو بیوی ،بچوں اور بہن بھائیوں ،ماں باپ یا پھر کسی فرنٹ مین کے نام کر دیا جائے گا مگر سب کو معلوم ہو گا کہ کونسی کمپنی کس وزیر کی ہے،ٹھیکہ کسے دینا ہے،کونسا اسکول اور کالج کس وزیر کا ہے ،پوزیشن ہولڈر کا انتخاب کہاں سے کرنا ہے۔آج ہی مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں ڈپٹی کمشنر دیر لوئر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے کا عکس ہے۔ضلع کے تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان کو بھیجے گئے اس حکمنامے میں کہا گیا ہے ہر صورت سولر پینل لگوائیں اورایک مخصوص کمپنی کی نشاندہی کی گئی ہے کہ صرف اس کی خدمات حاصل کی جائیں۔
ان حالات میں عمران خان ایک مرتبہ پھرکنٹینر سجانے اورحکومت گرانے نکلے ہیں تو ان سے اظہار ہمدردی ہی کیا جا سکتا ہے۔عمران خان خود تو ڈوبے ہی ہیں ،مجھے تو شاہ محمود قریشی ،جاوید ہاشمی اور ان جیسے دیگر منجھے ہوئے سیاستدانوں پر ترس آتا ہے جن کا مستقبل ان کی وجہ سے تاریک ہو گیا۔ایک مشروب ساز کمپنی کا گانا ان دنوں زبان زدعام ہے ،اس کی مناسبت سے عمران خان چاہیں تو اپنے ڈی جے سے ایک نئے گانے کی دھن بنا سکتے ہیں جس کے الفاظ کچھ یوں ہوں:
سوہنے آ حکومت گرادے
ظالماں وزیراعظم بنا دے
حاصل کلام یہ ہے کہ کوئی خان صاحب کو کان میں جا کر بتائے،ابراہم لنکن نے کہا تھا،آپ کچھ افراد کو مستقل اور تمام افراد کو کچھ وقت کیلئے بیوقوف بنا سکتے ہیں مگر سب لوگوں کو ہمیشہ کیلئے بیوقوف نہیں بنا سکتے۔کچھ بعید نہیں ،خان صاحب جوش میں آ کر کہیں ،اوئے یہ بھی پٹواری نکلا۔ابراہم لنکن کتنے میں بِکے؟
.