• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں، جن کے آدمی ہونے کا یقین ہی نہیں آتا۔ ایک تو روحانی شخصیات ہیں ،جن میں سب سے اوپر رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ  اقدس ہے۔ کوئی انؐ کے قدموں کی خاک بھی نہیں۔ والد پیدائش سے پہلے اور والدہ کم سنی میں انتقال فرماگئیں ۔ آپ ﷺ لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے اور آپ ﷺ کو وصال فرمائے 14 سو سال ہو چکے ۔ اس کے باوجود دنیا کے دو ارب انسان بغیر دیکھے آپؐ پہ درود و سلام بھیجتے ہیں ۔آپؐ کا کلمہ پڑھنے والے جب تک حق پر رہے ، غالب رہے۔ آج بھی دوسرے مذاہب خوفزدہ ہیں کہ مسلمان دوبارہ اٹھ نہ کھڑے ہوں۔ہر قابلِ ذکر مسلمان ملک پہ اسی لیے وہ چڑھ دوڑتے ہیں ۔پاکستان کو بھی وہ چھوڑیں گے نہیں۔

اسرائیل نے غزہ میں 74 ہزار مسلمان شہید کر دیے۔ یہودیوں کا مسلمانوں سے بنیادی تنازع کیا ہے۔ صرف یہ کہ آخری نبی محمد ﷺ یہودیوں  سے باہر کیسے مبعوث ہوسکتے ہیں۔ بندہ ان سے پوچھے اللّٰہ آپ سے پوچھ کر مبعوث کرے؟ حضرت عیسیٰ ؑ پہ بھی یہودی اسی وحشت کے ساتھ حملہ آور ہوئے تھے۔ اسلام نازل ہونے پر انہیں عیسائی بھول گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اصل خطرہ محمد ﷺ ہیں۔ عالمِ انسانیت آج دو حصوں میں بٹا ہواہے۔ ایک وہ جومحمد ﷺ کے پیروکار ہیں اور دوسرے وہ جو انکے مخالف ہیں، بشمول بت پرست۔

پیغمبروںؑ کی بجائے عام لوگوں کی اگر بات کی جائے تو ان میں کسی کھیل اور کسی پیشے میں ایسا ایسا انسان گزرا ہے، جس پہ دیومالائی ہونے کا شک گزرتا ہے۔ مثلاً بروس لی اور مثلاً باکسر محمد علی۔ 1967ء میں محمد علی عالمی چیمپئن تھا،جب ویت نام کی جنگ میں لڑنے سے انکار پر اسے قید کر دیا گیا۔ جس باکسر کے چار قیمتی سال ضائع ہوجائیں،وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود اس نے 1974ء میں ناقابلِ شکست جارج فورمین سے ٹائٹل چھین لیا۔ 1978ء میں جب وہ تیسری بار ٹائٹل جیتا تو مخلوق ششدہ رہ گئی۔ مائیک ٹائسن سمیت کیسے کیسے شہسوار میدان میں اترتے ، ایسا کبھی نہ ہوا۔ محمد علی صرف جسمانی جنگ نہ لڑتا تھابلکہ متوازی ذہنی جنگ ۔ وہ اپنے مخالف کو اس قدر جذباتی کر دیا کرتا کہ وہ غلطی کر دیتا ۔اس کے بعد ایک گھونسا کافی ہوتا۔ محمد علی نے کہاتھا: جو فریزر کے ساتھ جتنا وقت اکھاڑے میں گزرا ، وہ وقت جہنم میں گزرا۔ عالمی فاتح جارج فورمین اس قدر خوفناک لڑاکا تھا کہ اس نے محمد علی کو ناکوں چنے چبوا دینے والے جو فریزر کو پہلے دو راؤنڈز میں چھ دفعہ زمین پہ گرایا۔ پھر محمد علی کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ وہ جارج فورمین کے مقابل نہ صرف میدان میں اترا بلکہ اس نے اسے ہرا کر دوبارہ عالمی ٹائٹل بھی جیت لیا۔ اس نے Rope a dopeکی تکنیک ایجاد کی، جو ایک دیوانے کا خواب لگتا ہے۔ وہ اکھاڑے کی رسیوں پہ جھولتا رہتا اور جارج فورمین کو مکے برساتے رہنے کی کھلی چھوٹ دے دیتا۔ اس نے جارج فورمین کو تھکایا اور پھر اسے ہرایا ۔ یہ منظر دیکھتے ہوئے شائقین کی آنکھیں حیرت سے پھٹ رہی تھیں۔

ایک دن مگر دنیا نے محمد علی کو اس حال میں دیکھا کہ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ اسے بولنے میں دقت ہو رہی تھی۔ اسے پانی کا گلاس پکڑنے میں دقت ہو رہی تھی۔ انسانی تاریخ کا عظیم ترین باکسر ایک عام انسان سے بھی کمزور ہو چکا تھا ۔ وجہ کیا تھی ؟ محمد علی کا جسم اپنے آپ سے لڑپڑا تھا۔اسے پارکنسن لاحق ہو چکا تھا۔ جس شخص کا جسم اپنے آپ سے لڑ رہا ہو ، وہ کسی اور سے نہیں لڑ سکتا۔ اگر ایک شخص کے جسم میں کینسر پھوٹ پڑے ۔ اگر ایک شخص کا امیون سسٹم اپنے ہی جسم کو پرایا سمجھ کر اس پر حملہ آور ہو جائے ، وہ شخص ایک سسکتی ہوئی زندگی تو گزار سکتاہے، اکھاڑے میں نہیں اتر سکتا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد محمد علی اسکے باوجود 1980ء میں ایک بار پھر اکھاڑے میں اترا ۔ وہ چونکہ بیمار تھا اور یہ بات سب جانتے تھے کہ اس کا جسم اس کا ساتھ چھوڑ رہا ہے ۔ اس کے باوجود عالمی چیمپئن لیری ہولمز کیخلاف وہ میدان میں اترا جو اس کا ایک عقیدت مند تھا۔ اس دن محمد علی صرف مار کھانے کیلئے میدان میں اترا تھا۔ اسے یہ بات بخوبی معلوم تھی کہ وہ کسی صورت نہیں جیت سکتا ۔ کوئی مائنڈ گیم کام نہیں آسکتی ۔ وہ البتہ مار کھانے کی تکلیف برداشت کرلے تو اسے ایک بھاری رقم ضرور مل سکتی ہے ۔محمد علی کو اس وقت پیسوں کی ضرورت تھی ۔عقیدت مند ہونے کی وجہ سے لیری ہولمز نے اس پہ ہاتھ کافی نرم رکھا۔ پھر بھی اس شخص سے وہ کتنی نرمی کر سکتا تھا جو اس سے عالمی ٹائٹل چھیننے آیا ہو۔

یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس وقت پاکستان کا جسم اپنے آپ سے لڑ رہا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح 1971ء میں متحدہ پاکستان کا جسم اپنے آپ سے لڑ رہا تھا اور نتیجے میں وہ دو الگ ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ اگر ایک صوبے کاحاکم دوسرے صوبے میں نہیں جا سکتا اور اگر ایک صوبے کی پولیس دوسرے صوبے کے وزیرِ اعلیٰ پہ یلغار کرتی ہے۔ اگر ریاست کی توانائیاں بیرونِ ملک مقیم صحافیوں کے خلاف صرف ہو رہی ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ملکی جسد خود اپنے آپ سے لڑ رہا ہے ۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف جہاں بھی جاتے ہیں ، مئی میں بھار ت کو فضائی جنگ میں ہرانے کا طعنہ دیتے ہیں ۔ جنگیں سرمایے سے لڑی جاتی ہیں ۔ پاکستان کے کل سرکاری زرِ مبادلہ کے ذخائر 16ارب ڈالر ہیں اور بھارت کے 700 ارب ڈالر۔ ان سولہ ارب ڈالر کا ایک قابلِ قدر حصہ مانگے تانگے کا ہے جو وہ کسی وقت بھی واپس مانگ سکتے ہیں۔ بھارت سے اگر ذرا سی لمبی جنگ لڑنا پڑ گئی تو گولہ بارود کیلئے پیسہ کہاں سے آئے گا ؟۔ سیاسی عدم استحکام کا شکار ملک معاشی استحکام کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔ سب سے خوفناک جنگ وہ ہوتی ہے ، جو اپنے آپ سے ہوتی ہے ۔ جب یہ خوفناک جنگ جاری ہو تونتیجہ اچھا نہیں نکلتا ۔ اگے تیرے بھاگ لچھیے!

تازہ ترین