• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیج بحران، امارات کی یمن سے فوجی واپسی، سعودیہ کا خیرمقدم

کراچی (نیوز ڈیسک)خلیج بحران، امارات کی یمن سے فوجی واپسی کے اعلان کا سعودیہ نے خیرمقدم کیا ہے تاہم علیحدگی پسندوں پر محتاط ہے،سعودی عرب کا موقف ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ یو اے ای واقعی علیحدگی پسندوں کی حمایت روکنے میں سنجیدہ ہےیا نہیں، عمانی وزیرِ خارجہ کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، قطر سمیت دیگر خلیجی ممالک کی بھی کشیدگی میں کمی اورمذاکرات کی حمایت،امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سعودی اور یو اے ای وزرائے خارجہ سے رابطہ کیااورخطے میں استحکام پر بات چیت کی۔ادھرسعودی قیادت میں یمن کی اتحادی حکومت کا دعویٰ کیا ہے کہ مکالا بندرگاہ پہنچنے والے امارارتی جہاز میں گولہ بارود موجود تھا، غیر ملکی میڈیا کے مطابق خلیجی ممالک میں یمن کے بحران نے کشیدگی کی نئی لہر پیدا کر دی ہے، جہاں متحدہ عرب امارات نے اپنے باقی ماندہ فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے، ایک ایسے مرحلے پر جب سعودی قیادت میں اتحادیوں نے مکالا بندرگاہ پر یو اے ای سے منسلک ہتھیاروں کی مبینہ ترسیل پر بمباری کی۔ سعودی عرب نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے مگر اب تک کشیدگی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ابو ظہبی جنوبی یمن میں علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت ختم نہیں کرتا۔ STC نے حال ہی میں یمن کے جنوبی اور وسائل سے بھرپور صوبوں پر تیزی سے قبضہ کیا، جس سے سعودی یو اے ای تعلقات میں پھوٹ آشکار ہوئی۔ عمان کے وزیرِ خارجہ نے یمن کے بحران پر سعودی ہم منصب سے ملاقات کر کے سیاسی حل تلاش کرنے پر بات کی، جبکہ دیگر خلیجی ممالک، بشمول کویت، بحرین اور قطر، کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے امن کے فروغ کی حمایت کا عندیہ دے رہے ہیں۔

دنیا بھر سے سے مزید