• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مساجد کی صفیں میلی ہونے کی صورت میں نماز کا حکم نیز اس بناء پر جماعت چھوڑنے کا خیال (گزشتہ سے پیوستہ)

آپ کے مسائل اور ان کا حل

اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام اور ان کے جلیل القدر صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ بیت اللہ کو زائرین (طواف، اعتکاف ، قیام، رکوع اور سجود کرنے والوں) کے لیے پاک صاف رکھیں، قرآن مجید میں اس کا ذکر موجود ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی اس کی بہت تاکید ہے۔

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امّت کے اعمال کے ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے، یہاں تک کہ کسی شخص کا مسجد سے تنکا (کچرا) نکالنے کا ثواب بھی۔“ (سنن أبوداؤد ، 1/ 126) 

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے۔ (سنن ابو داؤد) حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اور اس کا کفّارہ اسے دفن کرنا (مسجد کو صاف کرنا) ہے۔ (صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، سنن ترمذی) 

رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ مسجد میں قبلے کی جانب دیوار پر تھوک/ بلغم دیکھا تو خود دستِ مبارک سے اسے کھرچ کر صاف کردیا، اور مسلمانوں کو بطورِ خاص قبلہ رخ تھوکنے اور ناک صاف کرنے سے منع فرمایا۔(بخاری، مسلم، سنن نسائی، سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ)

لہٰذا اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہونا چاہتا ہے اور اس کے پیروں پر مٹی لگی ہوئی ہے تو اسے چاہیے کہ پیروں کو صاف کرکے مسجد میں داخل ہو، اگر پیر دھونے کی ضرورت پیش آئے تو انہیں دھونے کے بعد خشک کرے اور مسجد میں داخل ہو، مسجد انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے مناسب انتظام کرنا چاہیے کہ وضو خانے سے نکلتے ہی پاؤں خشک کرنے کی سہولت ہو۔

تاہم اگر کوئی شخص میلےپاؤں کے ساتھ مسجد کے فرش یا صفوں پرچلےاور اس کے پیروں پرناپاکی کا یقین نہ ہوتو اس سے مسجد کا فرش یا صفیں ناپاک نہیں ہوں گے، اور ان پر نماز ادا ہوجائے گی۔ (الأشباہ و النظائر، ص:49، القاعدۃ الثالثۃ:اليقين لا يزول بالشک، ط:دار الکتب العلميۃ) نیز جماعت کی نماز سنتِ مؤکدہ (واجب کے قریب قریب) ہے، اس بنیاد پر اسے چھوڑنا درست نہیں۔ 

 حاصل یہ ہوا کہ لوگوں کو مسجد میں پاؤں صاف کیے بغیر نہیں آنا چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص مٹی والے پاؤں کے ساتھ آگیا اور اس کے پاؤں پر یقینی طور پر کوئی نجاست نہیں تھی تو مسجد کی صف ناپاک نہیں ہوگی، اور محض اس احتمال کی وجہ سے جماعت کی نماز کا ترک جائز نہیں ہوگا، لہٰذا اس شبہ پر توجہ نہ دیجیےاور حسبِ معمول مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کا اہتمام کیجیے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید