• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور نیّت کا احوال صرف خدائے پاک جانتا ہے اعمال اور نتائج کا جائزہ لینے کاحق ہر خاص و عام کو ہے مگر نیّت پر شک کرنا نہ کسی فرد کو زیبا ہے اور نہ کوئی یہ اختیار رکھتا ہے کہ وُہ کسی کی نیّت کو جان سکے۔ اسلئے وُہ افراد جو کسی کی نیّت پرحملہ آور ہوتے ہیں وُہ کائنات کے سب سے بے ہدایتے لوگ ہیں جب نیت کا خدا کے علاوہ کسی کو علم ہی نہیں ہو سکتا تو پھر جھوٹے خدا بن کر نیتوں پر شک اور بے اعتمادی کیوں؟ جب تک کوئی ثابت نہ کر دے اس وقت تک کسی کی حب الوطنی کے بارے میں نیک نیتی پر شک کی اس کے سوا وجہ سمجھ نہیں آتی کہ شک کرنے والے خود بدنیتی کا شکار ہیں۔ حالیہ مہینوں میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے غیر ملکی دوروں کے حوالے سے بہادر بھگوڑوں اور بدنیت پھوڑوں نے تنقید کے وُہ نشتر چبھوئےجو نہ صرف حقائق کے اعتبار سے غلط تھے بلکہ ان کے افسانے بھی اغلاط سے پُر تھے۔

ریاست پاکستان میں بیرونی دورے اور خارجہ پالیسی، گہرے غور وفکر کے بعد ترتیب پاتی ہے اس میں فوج، حکومت، محکمہ خارجہ، انٹلیجنس ادارے، مشاورتی تھنک ٹینک اور بعض اوقات بیرونی دوستوں کی آرا بھی شامل ہوتی ہے۔ اصولاً تو ملک میں بیرونی دوروں کی نیت اور اخلاص پر کوئی سوال ہی نہیں اٹھنا چاہئے میری ادنیٰ رائے میں پاکستان کا ہر وزیراعظم، وزیرخارجہ یا چیف آف اسٹاف جب بھی بیرونی دورے پر جاتا ہے اس کے پیش نظر صرف اور صرف پاکستان کا مفاد ہوتا ہے ان میں سے ہر ایک کی نیت پاکستان کے لئے فائدہ حاصل کرنا اور اپنے ملک کو اونچا لےجانا ہوتی ہے اس نیت کے باوجود نتائج حسب توقع نہیں آتے تو تنقید بھی ہوتی ہے مگر یہ طے ہے کہ جرنیل ہوں یا سیاستدان ان کے بیرونی دوروں کا مقصد ملکی مفاد ہوتا ہے سر ظفر اللہ خان سے لیکر اسحاق ڈار تک ہر ایک نے بلا تخصیص یہی کوشش کی ہے کہ پاکستان مضبوط ہواور اسے فائدہ پہنچے۔ اگر برا نہ لگے تو میں تو اسکندر مرزا اور یحییٰ خان جنہیں عام طور پر برا گردانا جاتا ہے ، کی نیت کے بارے میں گمان رکھتا ہوں کہ نتائج جو بھی نکلے وُہ نیتاً پاکستان کی بہتری چاہتے تھے۔ اسکندر مرزا نے ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھی اور یحییٰ خان نے چین امریکہ تعلقات میں پُل کا کردار ادا کر کے پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا۔ یہ تو خیر منفی تاثر رکھنے والوں کی بات ہے مگر آجکل تو جنگ میں فتح کے بعد پاکستان سفارتی سطح پر اونچے مقام پر چلا گیاہےاور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے بیرونی دوروں سے پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ترین ملک بن گیا ہے ۔بہادر بھگوڑے اور بدنیت پھوڑے مانیں نہ مانیں کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہی پاکستان جس کو امریکہ نے نظرانداز کر رکھا تھا جنگ میں فتح کے بعد سے وُہ جنوبی ایشیا اور اسلامی ممالک کا سب سے اہم ترین ملک بن کر ابھرا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے آنے پر خطرہ تھا کہ وُہ کہیں پاکستان کے بارے میں معاندانہ رویّہ نہ اپنائے کیونکہ پچھلے دور صدارت میں ایک مشہور ٹوئٹ میں ٹرمپ نے پاکستان کو دہشت گردی کا مرتکب ٹھہرایا تھا اور پھر بھارتی وزیراعظم نے امریکہ میں مقیم بھارتیوں کے ایک بہت بڑے کنونشن میں صدر ٹرمپ کو بلا کر پاکستان کے خلاف ایک فرنٹ بنانے کی کوشش کر رکھی تھی مگر فیلڈ مارشل کی ٹیم نے سب کچھ الٹا دیا اور صدر ٹرمپ اپنی متلون مزاجی کے باوجود پاکستان کی جس طرح مسلسل تعریفیں کر رہا ہے ایسا تو کبھی تاریخ میں نہیں ہوا۔ پاکستان کی تعریف کا دوسرا بالواسطہ مطلب بھارت اور مودی کی مذمت بھی ہوتا ہے۔

پاکستان بننے کے بعد سے ہی مشرق وسطیٰ کے مسلمان ممالک ہمارے اتحادی اور اسرائیل ہمارا مخالف رہا ہے قائداعظم محمد علی جناح نے خارجہ پالیسی کا یہ اصول استوار کیا تھا اور ہم آج تک اسی پر چلے آرہے ہیں ۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہمیں اس دوستی کے بہت سے معاشی اور دفاعی فوائد بھی ملے عمران خان کے دور میں ابتدائی طور پر مشرق وسطیٰ کے ان ممالک میں بڑی گرمجوشی دیکھنے میں آئی مگر آخری دور میں ہر طرف سردمہری بلکہ لاتعلقی پیدا ہوگئی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر ہر ایک سے کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا ہو گیا۔ فیلڈ مارشل نے ان ممالک کے کئی دورے کر کے لاتعلقی اور سرد مہری کو توڑا ہے بلکہ کویت سے ایک مستقل ناراضی کو دوستی میں بدلا ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے خارجہ پالیسی میں یکسانیت پیدا کی ہے، قطر سے معاملات کو درست سمت دی ہے۔لیبیا کے دورےکےدوران جو افواہیں اڑائی گئیں وہ افسوسناک ہیں ہر دورے سےچاہےوہ کتنا بھی متنازع ہو اس میںپاکستان کافائدہ مضمرہوتا ہے۔دورہ لیبیاکے دوران فوجی افسروں کی تقرریوں و تعیناتیوں پر جو قیاس آرائیاں کی گئیں اس سے ملک کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچنے کا احتمال تھا ۔لہٰذا ان موضوعات سے گریز ہی بہتر ہے۔

پاک بھارت حالیہ جنگ سے پہلے کی صورتحال یہ تھی کہ بھارت اور بالخصوص وزیراعظم مودی کی پاکستان پالیسی ہمیں نظر انداز کرنے اور دہشت گرد اور غیر ذمہ دار ملک قرار دینے کی ہوتی تھی اور اس حوالے سے وہ دنیا کو یہ جھوٹا یقین دلانے میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہو گئے تھے۔ جنگ میں پاکستان نے گولی کا جواب توپ سے اور ایک کے مقابلے میں دس سے جواب دینے کا جو فیصلہ کیا وہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ہی مرہون منت تھا اسی وجہ سے پہلی دفعہ بھارت خوفزدہ ہوا مودی نے ڈر کر سیز فائر قبول کیا یہ فتح کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ مسلم تاریخ کے ایک ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے ہمیں تو مسلم دنیا کی فتح کا ذکر صدیوں پہلے کی تاریخ میں ملتا ہے وگرنہ پے در پے شکستوں نے مورال کو گرا کر رکھ دیا تھا۔

صلاح الدین ایوبی کی فتوحات کے علاوہ سقوطِ بغداد، سقوط غرناطہ اور سقوط ڈھاکہ نے مسلم بہادری کے قصّوں کو گہنا دیا تھا لیکن پاک بھارت جنگ میں بہادری اور پھر فتح نے دوبارہ سے دنیا میں مسلم پھریرے لہرا دیئے ہیں۔ کوئی فانی شخص بھی غلطیوں اور خامیوں سے مبّرا نہیں۔ کسی کی نیت پر شک کرنا اصولاً غلط ہے ہاں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے کئی سیاسی فیصلوں سے اختلاف ہو سکتا ہے اور یہ بزدل صحافی اپنی ناتوانی اور کمزوری کے باوجود کبھی اس کے اظہارسے ہچکچاتا بھی نہیں مگر بہادری اور خارجہ پالیسی میں موجودہ حکومت اور فیلڈ مارشل کے کارنامے کو نہ سراہنا بدنیتی کے مترادف ہے۔ صحافیوں کا کام چونکہ حکومتوں اور سیاست پر نظر رکھنا ہوتا ہے اسی لیے تنقید ان سے سرزد ہوتی رہتی ہے مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ جہاں خیر ہو وہاں بھی شر پھیلایا جائے یہ اعزاز صرف بہادر بھگوڑوں اور بدنیت پھوڑوں کو ہی زیبا ہے اور انہی سے موسوم رہے تو بہتر ہے۔وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے دوروں کے معاشی اثرات ابھی نہیں آئے مگر ساکھ بہتر ہوگی تو لازماً معاشی اثرات بھی پڑینگے۔ ایف16کے پرزوں کے حوالے سے امریکی فیصلہ، پاک سعودی دفاعی معاہدہ، ایران سے بہتر تعلقات، غزہ کے حوالے سے مسلم ممالک میں سب سے نمایاں ہونے اور دنیا کے اہم فیصلوں میں شریک ہونا پاکستان کی اہم سفارتی اور بین الاقوامی کامیابی ہے۔ ہم دنیا کے پچھواڑے میں پھینک دیئے گئے تھے لیکن اب اوجِ ثریا کو چھو رہے ہیں ایسے میں اس محاذ پر تنقید لایعنی بے بنیاد اورلا حاصل ہے۔

تازہ ترین