• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجی اسکولوں کو 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم دینے کا حکم، خلاف ورزی پر رجسٹریشن خطرے میں ہو گی

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

صوبائی محکمۂ تعلیم نے سندھ ہائی کورٹ (سکھر بینچ) کے احکامات کی روشنی میں صوبے بھر کے نجی اسکولوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پسماندہ طبقے کے کم از کم 10 فیصد طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے قانونی تقاضے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ احکامات سی پی نمبر 1592/2025 (مسز فوزیہ و دیگر بنام حکومت سندھ) میں سندھ ہائی کورٹ کے 12 جنوری 2026ء کے فیصلے اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے موصول مراسلے کی روشنی میں دیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ رائٹ آف چلڈرن ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2013ء کے تحت ہر نجی اسکول اپنے کُل داخلہ شدہ طلبہ میں سے کم از کم 10 فیصد بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا پابند ہے۔ 

اس ضمن میں اسکولوں کو زیرو فیس واؤچرز اور دیگر دستاویزی شواہد جمع کروانا ہوں گے۔

محکمۂ تعلیم نے ہدایت کی ہے کہ نجی اسکولوں کی رجسٹریشن اور تجدیدِ رجسٹریشن صرف اسی صورت منظور کی جائے گی جب وہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ جمع کروائیں گے۔

احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ڈائریکٹر کو ذاتی طور پر ذمے دار ٹھہرایا جائے گا اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

قومی خبریں سے مزید