امریکی خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ کی زندگی پر بننے والی دستاویزی فلم امریکا اور برطانیہ کے باکس آفس پر آنے سے پہلے ہی بری طرح پٹ گئی۔
امریکا میں وسطِ مدتی انتخابات سے قبل اس دستاویزی فلم کا ناکام ہونا کئی صارفین کے نزدیک صدر ٹرمپ کے لیے بری خبر ہے۔
تفصیلات کے مطابق 75 ملین ڈالرز خرچ کر کے بنائی گئی یہ دستاویزی فلم ’میلانیا‘ 30 جنوری کو ریلیز کی جا رہی ہے مگر نیویارک اور لندن کے اکثر سنیما گھروں میں ابھی تک اس فلم کے صرف ایک، دو ٹکٹ ہی فروخت ہوئے ہیں۔
یہاں تک کہ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر واقع اہم سنیما گھروں کے ساڑھے 7 بجے کے شوز میں اس فلم کا 25 ڈالرز کا ایک بھی ٹکٹ کسی نے نہیں خریدا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر اس دستاویزی فلم کو بھرپور انداز میں پروموٹ کیا جا رہا ہے تاہم لوگ اب سوشل میڈیا پر خالی سنیما گھروں کی تصویریں بھی پوسٹ کرنے لگے ہیں۔
دستاویزی فلم ’میلانیا‘ میں امریکی صدر کی حلف برداری سے 20 روز پہلے کی کہانی دکھائی گئی ہے۔
اس فلم کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی خاتونِ اوّل نے فلم میں کام کرنے کے لیے 28 ملین ڈالرز لیے ہیں۔
اسٹریمنگ سروس’ایمازون‘ نے اس دستاویزی فلم کے حقوق 40 ملین ڈالرز میں خریدے ہیں اور اس کی مارکیٹنگ، پروموشن اور ڈسٹری بیوشن پر 35 ملین ڈالرز خرچ کیے گئے ہیں۔
میلانیا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس دستاویزی فلم میں ان کی زندگی کی وہ کہانی دکھائی گئی ہے جو اب تک کسی کو معلوم نہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ میں کیسے اپنے بزنس، فلاحی کاموں اور فیملی کی دیکھ بھال کرتی ہوں اور میں نے کس طرح وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کو تیار کیا۔
امریکی میزبان نے امریکی خاتونِ اوّل کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ تاریخی ایسٹ ونگ تو اب ہے ہی نہیں کیونکہ اسے گرا کر بال روم بنایا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ فلم کی ٹیم کے اکثر ممبرز نے بھی دستاویزی فلم کو پروپیگنڈا قرار دے دیا ہے اور بدنامی کے ڈر سے دو تہائی عملے نے فلم سے اپنے نام اینڈ کریڈٹس سے بھی نکلوا دیے ہیں۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ میلانیا ٹرمپ کو اس بات پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا جا رہا ہے کہ جب منی سوٹا میں فائرنگ ہوئی تو وہ اپنی دستاویزی فلم کی تشہیر میں مصروف تھیں۔