• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ دو طرح کی شخصیات کا احسان کبھی نہیں بھولتی اور انہیں ہمیشہ اپنے اوراق میں زندہ و جاوید رکھتی ہے ان میں ایک شخصیت کسی ملک یا نظام کے بانی اور دوسری اپنے وقت کے مصلح کی ہوتی ہےاس حوالے سے قائد اعظم بانیءِ پاکستان اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو ایک مصلح کی حیثیت سے پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

5 جنوری قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش ہے۔ آپ کا 1928 میں سر شاہنواز بھٹو اور لیڈی خورشید کے ہاں لاڑکانہ سندھ میں جنم ہوا ۔بمبئی میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1950 ءمیں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے سے پولیٹکل سائنس میں گریجویشن اور 1952ءمیں آکسفورڈ یونیورسٹی سے لا میں ماسٹر ڈگری حاصل کی،اسی سال مڈل ٹیمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا،وہ پہلے ایشین تھے جنہیں ساؤتھ امپٹن یونیورسٹی انگلینڈ میں دستوری قانون کے پروفیسر تعینات ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1953 میں انہوں نے بطور وکیل سندھ ہائی کورٹ کراچی میں پریکٹس شروع کی ۔ وہ شروع ہی سے سیاست میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے جو انہیں ورثے میں ملی تھی ۔ ان کے والد سر شاہ نوازبھٹو سندھ کے ایک معروف جاگیردار اور سیاستدان تھے جنہوں نے سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرنے کی تحریک میں نمایاں حصہ لیا تھا اور بعد میں ریاست جوناگڑھ میں دیوان کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے جو وزیراعظم کے برابر کا عہدہ تھا ۔انہی کی کوششوں سے والی جونا گڑھ نے ریاست کے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا جس پر بعد میں ہندوستان نے بزورِ طاقت قبضہ کر لیا تھا ۔سر شاہنواز بھٹو نے لندن میں ہونے والی تیسری گول میز کانفرنس میں بھی شرکت کی اور تحریک آزادی کے نمایاں لیڈروں میں شامل رہے ۔وہ قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے جنکی وجہ سے جناب بھٹو کے دل میں بھی قائد اعظم کا بڑا احترام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 16 سال کی عمر میں قائد اعظم محمد علی جنا ح کو ایک خط لکھا تھا جس میں نوجوان بھٹو نے قائد اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ عہد کیا تھا کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس ملک کی خدمت کریں گے اور اگر اس کیلئے انہیں جان بھی قربان کرنی پڑی تو اس سے دریغ نہیں کریں گے اور پھر وقت نے دیکھا کہ انہوں نے اپنا یہ وعدہ پورا کر کے دکھایا، جب 4 اپریل 1979 کو ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے قتل کے جھوٹے مقدمے میں انہیں سزائے موت دیدی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کا قائد اعظم کے نام لکھا ہوا یہ خط 1980میں منیر احمد منیر کے ہفت روزہ ’آتش فشاں ‘ کے ایک شمارے میں شائع ہوا تھا جسے پی ٹی وی کیلئے بھٹو صاحب کی شخصیت پر بننے والی میری ڈاکومنٹری ’دیدہ ور‘ میں شامل کیا گیا تھا جو 2010 میں ریلیز کی گئی تھی ۔ اگرچہ وہ صدر اسکندر مرزا کے دور حکومت میں وزیراعظم فیروز خان نون کے وزیر تجارت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ 1954ءمیں حکومت میں شامل ہوئے جس میں کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان وزیر دفاع بھی تھے لیکن وہ جنرل ایوب خان کے طویل دور حکومت میں 58 سے 60 تک وزیر تجارت جبکہ 60سے 63 تک وزیرِ اقلیتی امور، وزارتِ قومی تعمیر نو ،وزارِت اطلاعات ،وزارتِ صنعت و حرفت ، قدرتی معدنیات اور امورِ کشمیر کے وزیر بھی رہے لیکن ان کو اس وقت شہرت ملنا شروع ہوئی جب وہ پاکستان کے وزیر خارجہ منظور قادر کی وفات کے بعد 1963ءمیں وزیر خارجہ بنے اور انہوں نے اپنی شاندار آزاد خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان کا نام روشن کیا۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں وہ ہیرو کی حیثیت سے ابھرے اور جب معاہدہ تاشقند کے بعد انکے صدر ایوب سے اختلافات پیدا ہو گئے تو انہوں نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ جناب بھٹوکو اصل شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب انہوں نے ایوب خان کی حکومت کو چھوڑا اور اسکے خلاف عوامی تحریک کی قیادت کی ۔انکی خارجہ پالیسی میں پہلی مرتبہ عوامی جمہوریہ چین سے پاکستان کی لازوال دوستی کی بنیادیں رکھی گئیں۔ اسی طرح انہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا۔ بھٹو کے صرف یہی دو کارنامے یعنی چین کی دوستی اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام اس وقت پاکستان کی سلامتی کے ضامن بن کر ابھرے جب 10 مئی 2025 کو پاک بھارت جنگ کے دوران کمزور معاشی حالات کے باوجود پاکستان نے بھارت کو رسوا کن شکست سے دوچار کیا۔ صرف یہی نہیں ذوالفقار علی بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کو 1973کا متفقہ آئین دینا ہے جو 25 برس تک کوئی حکمران نہ دے سکا۔ آج جب تمام سیاستدان 73 کے آئین کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ گویا ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔پاکستان نے بڑے سانحوں کے بعد جناب بھٹو کی قیادت میں ترقی خوشحالی اور آئینی بالادستی کا جو سفر شروع کیا تھا اسے ایک طالع آزما ڈکٹیٹر نے ختم کر کے پاکستان میں نہ ختم ہونے والا ایک ایسا سیاسی بحران اور عدم استحکام کا دور شروع کر دیا جو ابھی تک ختم نہیں ہوا ۔ان کے عدالتی قتل نے ،جسے اب سپریم کورٹ نے بھی تسلیم کر لیا ہے ،ملک کو عوامی حاکمیت کیخلاف سازشوں کا گورکھ دھندا بنا کر رکھ دیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے اس کی بجائے وہ خطے کا ترقی یافتہ ملک ہوتا ۔اس عظیم المیہ نے گزشتہ 50 سال کے دوران مزید کئی المیوں کو جنم دیا جن میں انکی بیٹی اور عوام کی محبوب رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی شامل ہے۔ بلاشبہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنما صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

تازہ ترین