وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کے بعد ان سے کیا سلوک کیا گیا اور انہیں کہاں کہاں منتقل کیا گیا، تفصیل سامنے آگئی ہے۔
نکولس مادورو کو ہفتے کی علی الصبح امریکی خصوصی فورسز کے اچانک آپریشن کے دوران دارالحکومت کاراکس سے گرفتار کیا گیا۔
امریکی ٹی وی سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی انتہائی خفیہ انداز میں اور اچانک انجام دی گئی۔
ذرائع کے مطابق امریکی فورسز نے رات کے درمیانی حصے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ سو رہے تھے، دونوں کو نیند کی حالت میں گھسیٹ کر باہر نکالا گیا اور فوری طور پر امریکی تحویل میں لے لیا گیا۔
چند گھنٹوں بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مادورو کی ایک تصویر جاری کی، جس میں وہ امریکی جنگی جہاز USS Iwo Jima پر موجود دکھائی دیے، تصویر میں مادورو سرمئی ٹریک سوٹ میں ملبوس، ہاتھ میں پانی کی بوتل، آنکھوں پر ماسک اور کانوں پر ہیڈفون لگے ہوئے نظر آئے۔
جس کے بعد مادورو کو اسٹیورٹ ایئر نیشنل گارڈ بیس (نیویارک) پر ایک طیارے سے اترتے دیکھا گیا، جہاں ایک درجن سے زائد سیاہ لباس میں ملبوس وفاقی اہلکاروں نے انہیں اپنی تحویل میں لیا۔
سی این این کے مطابق مادورو کو پہلے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہیٹن منتقل کیا گیا، پھر وہاں سے ایک اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر لے جایا گیا، اس وقت وہ اسی جیل میں قید ہیں۔
اس کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کے آفیشل Rapid Response اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں مادورو کو بظاہر ’پَرب واک‘ (ملزم کو میڈیا کے سامنے لانا) کے دوران دکھایا گیا۔
ویڈیو میں مادورو سیاہ ہُڈی اور پتلون میں ملبوس نظر آئے اور انہوں نے اپنے اردگرد موجود افراد کو انگریزی میں گڈ نائٹ اور ہیپی نیو ایئر کہا۔
واضح رہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات فروشی، بڑی مقدار میں کوکین امریکا درآمد کرنے اور غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔