ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت سے متعلق ایک اے آئی سے تیار کردہ ویژولائزیشن سامنے آئی ہے، جس میں حملے کے ممکنہ منظر نامے کو دکھایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس مصنوعی ذہانت پر مبنی ویژولائزیشن میں مبینہ فضائی حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات کی ترتیب کو بصری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایران کے سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کے کمپلیکس پر 30 بم گرائے، یہ کارروائی اسرائیل اور امریکا کے درمیان مربوط منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ جب حملہ ہوا تو خامنہ ای اپنے دفتر میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک تھے، اس اجلاس میں ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت بھی شریک تھی۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس نے خامنہ ای کی لوکیشن کو ٹریس کیا اور موقعہ ملتے ہی بمباری شروع کر دی۔
تاہم اس حوالے سے باضابطہ اور آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ اس ویژولائزیشن کو حقیقی فوٹیج کے بجائے تخیلاتی اور تجزیاتی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔