• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا و اسرائیل نے ایران پر حملے کیلئے ہفتے کی صبح کا انتخاب کیوں کیا؟

فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا
فوٹو بشکریہ برطانوی میڈیا

اسرائیل اور امریکا کو جیسے ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کی خبر ملی تو دونوں ممالک نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حملے میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ٹارگٹ تھے اور ان کے بارے میں امریکا اور اسرائیل کو یہ خدشہ بھی تھا کہ وہ موقع ملتے ہی روپوش ہو جائیں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے امریکی اور اسرائیلی انٹیلیجنس اداروں کو یہ اطلاع ملی تھی کہ ایرانی سپریم لیڈر ہفتے کی شام کو تہران میں اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ ملاقات کریں گے تو شام کو حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا لیکن پھر اسرائیلی انٹیلیجنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ملاقات اب ہفتے کی شام کو نہیں بلکہ ہفتے کی صبح کو ہونے والی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ ہفتے کی صبح اس لیے کیا کیونکہ وہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی اپنے مشیروں سے ملاقات کا وقت تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلیجنس کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر اپنے مشیروں کے ساتھ ملاقات کہاں پر کریں گے، اس لیے حملے  کے آغاز میں تہران میں واقع آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ حفاظتی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا اور سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر نے ان کی شہادت کی تصدیق کر دی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید