• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئےسال میں جہاں پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے وہیں امریکا کی جارحیت نے عالمی امن کو بھی نئے بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ وینزویلا پر حملے سے صدر ٹرمپ کا جنگیں روکنے کا بیانیہ متاثر ہوا ہے۔نوبل انعام کے حصول میں ناکامی کے بعد ڈونلڈٹرمپ نے وینزویلا میں کھلی دہشت گردی اور ایک ملک کی خود مختاری کو چیلنج کیا تو دوسری جانب ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر جوہری تعمیرات جاری رکھی گئیں تو ایران پر قیامت برپا کردیں گے، حماس نے غیر مسلح ہونے سے انکارکیا تو اسے قیمت چکانا ہوگی۔ عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو گرد و غبار ہے، وہ محض وقتی بیانات یا نعرے بازی نہیں بلکہ اس گہرے بحران کی نشانی ہے جس سے موجودہ عالمی نظام گزر رہا ہے۔ غزہ میں صورت حال معاہدوں کے باوجود بہتر نہیں ہوسکی،اس پورے عالمی تناظر میں اقوام متحدہ جیسا اہم ترین ادارہ اپنی افادیت کھو چکا ہے،طاقتور ملکوں کی من مانیوں نے اس ادارے کی کمزوری کو بری طرح بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے،یہ ادارہ صرف مذمتی بیان تک محدود ہوگیا ہے، وینزویلا میں صدر نیکولس مادورو کے خلاف کارروائی اور گرفتاری پر چین، روس، جرمنی، برطانیہ نے بھی صرف مسائل کا پرامن حل نکالنے اور عالمی قانون کے احترام پر زور دیا ہے۔کسی ملک نے اس حوالے سے کوئی وا ضح حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا،مسلمان ملکوں کی حالت نرالی ہے، وہ خود عالمی سازش کا شکار ہوکر آپس میں دست وگریباں ہیں۔ یمن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،ایران، شام ، افغانستان سب ہی کسی نہ کسی بحران سے گزر رہے ہیں،اس صورت حال میں پاکستان کو محتاط رہنا ہوگا۔ جنگ میں بھارت کی ناکامی اور شکست کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کی اہمیت اور دفاعی طاقت کا اعتراف کیا جارہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف جنگ میں فتح کے بعد جس کامیاب سفارت کاری سے عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا رخ موڑا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ چین کے ساتھ گہرے تعلقات ،عرب دنیا سے شراکت داری،مغرب کے ساتھ عملی حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کر کے دنیا کوپاکستان نے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔ جس سے مایوس ہوکربھارت، اسرائیل اور افغانستان ایک بار پھر پوری شدت سےپاکستان کیخلاف نہ صرف سازشوں میں مصروف ہیں، بلکہ وہ پاکستان کے کئی علاقوں میں اپنے دہشت گردوں کی مدد سے خونی کارروائیوں میں بھی فعال ہیںمگر بدقسمتی سے ہمارے اپنے ان کے ایجنٹ کا کردار بنے ہوئے ہیں۔افغانستان ایک ایسا بدنصیب ملک ہے جسے برسوں سے استحکام نصیب نہیں ہوا۔ غیرملکی جارحیت کا شکار رہا ، بدقسمتی یہ ہے کہ اسکی اشرافیہ ہر حملہ آورکے ساتھ مل جاتی ہے، جب کہ عوام کسی بھی جارح کی حکمرانی کو قبول نہیں کرتے۔پاکستان اپنی بساط کے مطابق جو بھی افغان عوام کی خدمت کر سکتا تھا اس نے ہمیشہ کی۔ افغانستان پر روسی جارحیت ہو یا امریکی قبضہ پاکستان نے وہاں سے آئے لاکھوں پناہ گزینوں کو قبول کر کے برسوں مہمان نوازی کی۔مگر افغان حکمرانوں نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا ، پاکستان مخالفت میں بھارت کو بھی اپنا دوست بنا لیا۔ ہم اپنی ریاست پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی معاملات میں بہت زیادہ بہتری اور استحکام نہیں ہے،دہشت گردی کا آسیب تمام تر کوششوں کے باوجود قابو نہیں آرہا ہے، سیاسی بحران بڑھ رہا ہے، سوشل میڈیا پر اداروں اور ملک مخالف مہم ختم نہیں ہورہی ہے۔ ہماری ریاست معاشی استحکام، مہنگائی پر قابو، توانائی کے بحران کےحل، اور سیاسی استحکام کی متقاضی ہے، جس کے لیے اصلاحات، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے والے اقدامات ضروری ہیں۔ ہوشربامہنگائی، قرضوں اور توانائی کی قلت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹھوس معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی مفاہمت وحکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات سے سیاسی استحکام لانا ہوگا، ٹیکسوں میں اضافے سے عام آدمی پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنا شہریوں کو خوراک اور طبی ضروریات کو سستا کرنا ایک بڑا تقاضا ہے۔ٹھوس پالیسیاں، سیاسی ہم آہنگی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات بہت ضروری ہیں ۔سیاسی استحکام معیشت کو سنبھالنے کی کوششوں پر مثبت اثر ڈالے گا جو ابھی تک مسائل سے باہر نہیںنکل سکی۔ یہ سچ ہے کہ آئی ایم ایف نے ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کو ٹالنے میں مدد کی ،مگر سوال یہ ہے کہ ہم کب ان عالمی مالیاتی اداروں سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوں گے؟ مگر حکمرانوں اور سیاست دانوں کو ملک کے مستقبل کی فکر نہیں،ہماری سوچ بدل نہیں رہی، ملک کی اشرافیہ کو صرف اپنے مال اور دولت میں اضافے کی دھن ہے، سرمایہ کاری کے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے سیاسی تناؤ میں کمی لانا ہوگی ۔ موجودہ حالات میں قوم کا سوال ہے کہ انہیں رواں سال جمہوریت کے حقیقی ثمرات مل سکیں گے، ملک کی قسمت، سمت اور نظام بد ل سکے گا؟پرانا سیاسی کھیل ،نئی سوچ، نئی قیادت،سیاسی انتشار میں کمی، استحکام میں اضافہ ہوسکے گا ؟کیا ہم سیاست جذبات سے نہیں ملک کی محبت سے کریں گے،کیاہم آمدنی، زرمبادلہ اور روزگار میں بہتری ،نئی صنعتیں، نئی راہیں، نئے مواقع،پانی، بجلی، زراعت، آئی ٹی،سمیت دیگر شعبوں میں نئی جان ڈال کرمعیشت کا پہیہ سیدھا چلانے میں کامیاب ہوسکیں گے،25کروڑ پاکستانیوں کو امید ہے کہ 2026ءان کیلئے ماضی سے مختلف ہوگا جس کے لئے ملکی سلامتی کے اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔اندرونی امن میں اضافہ اور خلفشار میں کمی کرنا ہوگی۔ رواں سال عوام بہتر نظام انصاف، معاشی آسانی،صاف اور شفاف حکمرانی کی توقع اس امید کے ساتھ رکھ رہے ہیں کہ یہ تبدیلی اگلی دہائی کے فیصلوں کی بنیاد بنے گی۔

تازہ ترین