• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیخ حمد بن خلیفہ، فلسطین کی تاریخی حمایت کرنے، غزہ کا محاصرہ توڑنے والے عرب رہنما

شیخ حمد بن خلیفہ الثانی — فوٹو قطری میڈیا
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی — فوٹو قطری میڈیا 

قطر کے سابق امیر اور والدِ امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کے انتقال کے بعد فلسطینی عوام کے لیے ان کی حمایت اور غزہ کے ساتھ یکجہتی کو ان کی قیادت کا اہم ورثہ قرار دیا جا رہا ہے۔

الجزیرہ کی جانب سے شائع کی گئی خصوصی رپورٹ کے مطابق شیخ حمد بن خلیفہ الثانی واحد عرب رہنما تھے جنہوں نے غزہ کا محاصرہ توڑتے ہوئے خود اس علاقے کا دورہ کیا۔

شیخ حمد نے اکتوبر 2012ء میں غزہ کا دورہ کیا تھا جب اسرائیل کی جانب سے 2006ء کے بعد سے عائد سخت پابندیاں اور محاصرہ جاری تھا، ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ شیخہ موزہ بنت ناصر اور ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود تھا، اس دورے کا غزہ میں سرکاری اور عوامی سطح پر بھرپور استقبال کیا گیا۔

حماس کے بیرونِ ملک دفتر کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ شیخ حمد کے انتقال پر قدس، غزہ اور فلسطین سوگوار ہیں۔ 

ان کے مطابق شیخ حمد پہلے عرب اور مسلم رہنما تھے جنہوں نے محاصرے کے مشکل ترین دور میں غزہ کا دورہ کر کے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی مظاہرہ کیا۔

سینئر صحافی اور عرب امور کے تجزیہ کار احمد الشیخ کے مطابق شیخ حمد کے دل میں فلسطین کے لیے خاص محبت تھی، عرب دنیا میں کوئی اور رہنما ایسا نہیں تھا جس نے غزہ جا کر وہاں کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہو۔

شیخ حمد کے دورۂ غزہ کے دوران قطر نے علاقے کی تعمیرِ نو کے لیے امدادی رقم کو 254 ملین ڈالرز سے بڑھا کر 400 ملین ڈالرز کر دیا تھا، اس رقم سے رہائش، بنیادی ڈھانچے اور صحت کے کئی منصوبے مکمل کیے گئے جن سے ہزاروں فلسطینیوں کو فائدہ پہنچا۔

غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے شیخ حمد نے فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو سراہا اور عالمی برادری کے دوہرے معیار پر تنقید کی تھی۔

فلسطین سے گہرا تعلق

شیخ حمد کی فلسطین کے لیے حمایت غزہ کے محاصرے سے پہلے بھی جاری تھی۔

1967ء کے بعد 1999ء میں وہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنے والے پہلے خلیجی رہنما بنے جہاں انہوں نے سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات سے ملاقات کی۔

احمد الشیخ کے مطابق جب سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریل شیرون نے رام اللّٰہ میں یاسر عرفات کے دفتر کا محاصرہ کیا تو شیخ حمد کو اس واقعے سے شدید دکھ پہنچا، ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے حملہ قطر پر کیا گیا ہو۔

شیخ حمد کو اس بات کا بھی افسوس تھا کہ وہ قبضے سے پہلے یروشلم نہیں دیکھ سکے، اسی وجہ سے انہوں نے مقدس شہر کی تاریخ اور شناخت پر ایک طویل دستاویزی فلم تیار کروائی۔

وہ فلسطینی عوام کو اپنی آزادی کی جدوجہد کا بنیادی کردار سمجھتے تھے اور ان کا یقین تھا کہ آزادی کے لیے فلسطینیوں کا اپنا کردار سب سے اہم ہے۔

علاقائی پالیسی سے اختلاف

2008ء سے 2009ء کی غزہ جنگ کے دوران شیخ حمد نے عرب ممالک سے فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 250 ملین ڈالرز فنڈ اور محاصرہ ختم کرنے کے لیے بحری راستہ قائم کرنے کی تجویز دی۔

انہوں نے عرب ممالک کے درمیان اتحاد نہ ہونے پر براہِ راست مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق شیخ حمد کے دور میں قطر نے غزہ میں کئی اہم منصوبوں کی مالی معاونت کی، ان منصوبوں میں خان یونس میں شیخ حمد سٹی بھی شامل ہے جو 58 ملین ڈالرز کی لاگت سے تعمیر کیا گیا رہائشی منصوبہ تھا جس میں کم آمدنی والے ہزاروں خاندانوں کے لیے 53 عمارتیں بنائی گئی  تھیں۔

اس کے علاوہ شیخ حمد اسپتال برائے بحالی اور مصنوعی اعضاء (Sheikh Hamad Hospital for Rehabilitation and Prosthetics)  نے 2019ء میں کام شروع کیا جو غزہ میں معذور افراد اور سماعت سے محروم بچوں کے لیے اہم طبی مرکز بن گیا۔

اکتوبر 2023ء کے بعد اسرائیلی جنگ کے دوران غزہ میں قطر کی مدد سے تعمیر کیے گئے کئی منصوبے تباہ ہو گئے تاہم شیخ حمد اسپتال شدید مشکلات اور حملوں کے باوجود اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ شمالی غزہ میں واحد کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی مشین رکھنے والا اسپتال بھی رہا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں شیخ حمد بن خلیفہ کی غزہ اور فلسطینی عوام کے لیے حمایت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انہیں نسلوں تک یاد رکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے محاصرے کے دور میں عملی اقدامات کے ذریعے فلسطین کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کی تھی۔

خاص رپورٹ سے مزید