نیا گھر، نئی گاڑی، تنخواہ میں اضافہ یا اس جیسی دیگر خواہشات پوری ہونے کے بعد انسان کی خوشی اور دلچسپی چند ہی ماہ بعد آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔
ویب سائٹ Bolde کے مطابق انسان کی خوشی اور دلچسپی میں یہ تبدیلی کسی ذاتی کمزوری یا کوتاہی کی علامت نہیں بلکہ اسے ’ہیڈونک ایڈاپٹیشن‘ (Hedonic Adaptation) یا ’لذت سے مانوس ہو جانا‘کہا جاتا ہے۔
اس عمل میں انسان نئی سہولتوں اور کامیابیوں کا عادی ہو جاتا ہے، جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ان سے ملنے والی خوشی کا احساس اور مزہ کم ہو جاتا ہے۔
ہیڈونک ایڈاپٹیشن ایک نفسیاتی تصور ہے، جس کی بنیادی بات یہ ہے کہ جب انسان کی زندگی میں کوئی اچھی چیز آتی ہے تو دماغ ابتداء میں اسے غیر معمولی اور نہایت خوش کن سمجھتا ہے، لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر برقرار نہیں رہتی اور وقت گزرنے کے ساتھ دماغ اس نئی چیز کو معمول کا حصہ تصور کرنے لگتا ہے۔
جب کوئی چیز معمول بن جائے تو دماغ اسے پہلے جیسی اہمیت یا خوشی کا ذریعہ نہیں سمجھتا اور اس سے ملنے والا جوش و مسرت آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں۔