• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملکی وے کے مرکز کے قریب رسبری میں پائے جانے والے شکر کے سالمے دریافت

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

ماہرینِ فلکیات نے کہکشاں ملکی وے کے مرکز کے قریب موجود گیس اور گرد و غبار کے ایک عظیم بادل میں ایریتھرولوز (Erythrulose) نامی شکر کا سالمہ (Molecule) دریافت کیا ہے، جو قدرتی طور پر رسبری میں پایا جاتا ہے اور خود کار ٹیننگ (Self-Tanning) لوشنز میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

یہ تحقیق 13 جولائی کو سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی (Nature Astronomy) میں شائع ہوئی اور یہ پہلی بار ہے کہ اس سالمے کی خلاء میں موجودگی کا ثبوت ملا ہے۔

ماہرین نے اسپیس میں موجود ریڈیو دوربینوں کی مدد سے G+0.693-0.027 نامی کثیف گیس اور گرد و غبار کے بادل کا مشاہدہ کیا، دوربینوں سے حاصل ہونے والے سگنلز کا لیبارٹری تجربات سے موازنہ کرنے پر شکر کے اس سالمے کی گیس کی صورت میں موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق اس دریافت کا مطلب یہ نہیں کہ خلاء میں رسبری پسند کرنے والی کوئی خلائی مخلوق موجود ہے، بلکہ یہ اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ زندگی کی تشکیل کے لیے ضروری نامیاتی مرکبات کائنات میں وسیع پیمانے پر موجود ہو سکتے ہیں۔

محققین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شکر کے سالمے جانداروں میں توانائی کی فراہمی، حیاتیاتی ڈھانچے کی تشکیل اور جینیاتی مادے کے اہم حصوں کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایریتھرولوز میں موجود 4 کاربن ایٹمز آسانی سے تھریوز (Threose) میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جسے ابتدائی نیوکلیک ایسڈز کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔

یہی نیوکلیک ایسڈز بعد میں آر این اے اور ڈی این اے کی تشکیل کا باعث بنے، جنہیں زندگی کا بنیادی جینیاتی خاکہ تصور کیا جاتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید