• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی تغیر و تبدل کا نام ہے ۔انسان کی سرشت اور جبلت یہی ہے کہ یکسانیت کے سبب اُکتاہٹ ہونے لگتی ہے مگر جنریشن زی اور الفا نے نہایت تیزی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نقش کہن مٹاتے دیکھا ہے اس لیے انکی طبیعت میں بیزاری کا عنصر کچھ زیادہ ہے ۔گویا عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب۔شاید یہی بنیادی مسئلہ ہے۔ بومرز اور میلینئلز کی نسبت جین زی اورالفا عجلت پسندی سے کام لیتے ہیں۔ آخر ایسی بھی کیا شتابی؟’’ عرب بہار ‘‘ کے عنوان سے برپا کیے گئے مصنوعی انقلاب کے نتیجے میں تیونس ،مصر،شام اور یمن کی حکومتیں عدم استحکام کا شکار ہوئیں توہمارے ہاں طفلان انقلاب نے گرہ لگائی کہ یہ سماج تبدیلی کا منتظر ہے۔ طالبان نے کابل فتح کیا تو ہمارے ہاں جشن طرب برپا ہوا۔

لیبیا میں معمر القذافی کے انجام پراُمیدیں وابستہ کی گئیں۔ سری لنکا اور پھر نیپال میںانارکی ہوئی توبرملا ان خواہشات کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان بھی اسی قسم کے حالات سے دوچار ہوسکتا ہے۔بنگلہ دیش میں مشتعل مظاہرین کے ہجوم نے شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کیا تو اسے جمہوریت کی عظیم الشان کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔ حال ہی میں امریکی فوج نے وینزویلا میں گھس کر صدر کو ان کی اہلیہ سمیت اغوا کرلیا تو مضطرب اور بے چین مگر بغض اور نفرت میں بصارت اور بصیرت سے محروم نونہالانِ انقلاب نے گرہ لگائی کہ اب سب ختم کیونکہ وہاں اور یہاں کے حالات میں بہت مطابقت ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن ممالک میں جین زی اور الفا کی بے چینی اور بے قراری کے سبب تبدیلی کی لہر اُٹھی ،کیا وہاں حالات بہتر ہوگئے ؟کیوں نہ دوسروں کے تجربات سے کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے۔گزشتہ چند برس میںانقلاب کے کتنے ہی خواب دیکھتے ہی دیکھتے عذاب ہو گئے۔یادش بخیر، 2010ء میں الجزائر اور لیبیا کے درمیان بحیرہ روم کے کنارے واقع ایک خوبصورت ملک تیونس سے اس تحریک کا آغاز ہوا۔

تعلیم یافتہ نوجوان بوعزیز ی کو دربد کی ٹھوکریں کھانے کے باوجود ملازمت نہ مل سکی تو اس نے سڑک کنارے چھابڑی لگا لی۔ خوانچہ فروشوں سے بھتہ وصول کرنا عام سی بات ہے مگر اس نے رشوت دینے سے انکار کیا تو ایک خاتون پولیس افسر نے سرعام اس پر تشدد کیا۔ تذلیل و تحقیر سے تنگ آکر بوعزیزی نے خود سوزی کر لی توحکومتی ظلم وجبر کیخلاف احتجاج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں تیونس کے حاکم زین العابدین بن علی کا 30سالہ دورِ اقتدار انجام کو پہنچا اور اسے ملک سے فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑی۔ تبدیلی کی اس لہر نے طوفان کی شکل اختیار کر لی۔ لیبیا،مصر، شام، یمن اور بحرین اس سونامی کی زد میں آ گئے۔ مصر کا تحریر اسکوائر عوامی احتجاج کا مرکز بن گیا۔ ڈکٹیٹر حسنی مبارک جو 30سال سے بلاشرکت غیرے حکومت کر رہے تھے، ان کا تختہ اُلٹ گیا، بیرون ملک فرار ہونے کا موقع نہ مل پایا اور ٹرائل کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ لیبیا کے فرماں روا معمر القذافی 42سال سے حکومت کر رہے تھے مگر انقلاب کی یہ لہر تریپولی پہنچی تو آہنی ہاتھوں سے حکومت کرنیوالے کرنل قذافی کوباغیوں نے دبوچ لیا اور بدترین تشدد کرکے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح جو گزشتہ 22بر س سےاقتدار پر قابض تھے، انہیں احتجاجی مظاہروں کے بعد مستعفی ہونا پڑا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم کرنیکی کوشش میں پورا ملک تباہ و برباد ہو گیا۔ تبدیلی کی اس لہر کو عرب بہار (Arab Spring)کا نام دیا گیا لیکن بعد ازاں یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ جسے بہار کی رُت سمجھ کر خوشیاں منائی جارہی تھیں وہ تو خزاں رسیدہ موسموں کا ہی ایک روپ تھا۔ مصر جہاں حسنی مبارک کی رُخصتی کو دیوار برلن گرنے کے واقعہ سے تشبیہ دی گئی، وہاں ایسا جمود طاری ہوا کہ حالات پہلے سے بھی کہیں زیادہ بدتر ہو گئے ۔ مصر کے لوگ سلطانی جمہور کی صبح خوش جمال کا سورج طلوع ہونے پر بہت نازاں تھے مگر جنرل سیسی نے مرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر ایسی خوفناک آمریت کی بنیاد رکھی کہ لوگ حسنی مبارک کے مظالم بھول گئے۔ لیبیا میں آج ایسی افراتفری، بدامنی اور لاقانونیت ہے کہ لوگ قذافی کے دور کی خوشحالی کو یاد کرتے ہیں۔ اب یہ بات بھی راز نہیں رہی کہ عرب بہار کی آڑ میں امریکی حکومت نے لیبیا کو عدم استحکام سے دوچار کیا۔ شام میں آج بھی خانہ جنگی ہے،پورا ملک ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ یمن میں اس قدر متحارب گروپ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں کہ خود انہیں معلوم نہیں کہ وہ کس کے خلاف اور کیوں لڑ رہے ہیں۔ انارکی کے سبب معیشت کا ستیا ناس ہو گیا، لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔

تیونس وہ واحد ملک ہے جہاں عوامی احتجاج کے بعد کسی حد تک مثبت تبدیلی آئی لیکن اب اسکی بساط بھی لپیٹ دی گئی ہے۔ زین العابدین بن علی کی رُخصتی کے بعد وہاں دستور ساز اسمبلی وجود میں آئی۔ نیا آئین منظور ہوا۔ ملک جمہوریت کے سفر پر گامزن ہوا لیکن 2019ء میں صدر منتخب ہونے والے قیس سعید نے نوزائیدہ جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا۔ جولائی 2021ء میں انہوںنے ایمر جنسی نافذ کرکے بیشتر اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ پھر ایک نیا آئین تیار کیا اور جنرل ضیاالحق کی طرح بوگس ریفرنڈم کے ذریعے اس کی منظوری لی گئی۔ فروری 2023ء میں انتخابات کروائے گئے، عوام نے بائیکاٹ کیا، ٹرن آئوٹ محض 12فیصد رہا مگر قیس سعید دوبارہ منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔ لوگ اب بھی بیروزگاری سے پریشان ہیں۔ بوعزیزی جیسے نوجوان نوکریوں کی تلاش میں ہیں اور رشوت کا رجحان پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ سری لنکا ،نیپال ،بنگلہ دیش اور اب وینزویلا ،تبدیلی کا سونامی جہاں جاتا ہے ،تباہی مچاتا ہے۔تو کیوں نہ چہرے بدلنے کے بجائے سسٹم کے اندر رہتے ہوئے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔

تازہ ترین