• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اسلام آباد میں ایک طویل پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے دہشت گردی کے بارے میں فوج کا موقف بڑی تفصیل سے پیش کیا خصوصاََ کے پی میں جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اس حوالے سے وہاں کی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور عمران خان کی طالبان پالیسی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ اب کے پی کے عوام سمیت پورے پاکستان کے شہریوں کی متفقہ رائے ہے کہ طالبان دہشت گرد ہیں اور ان کا کوئی مذہبی نظریہ نہیں جس کا ثبوت ان کا بھارت کی بنیاد پرست ہندوتوا حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے جس کی پشت پناہی سے وہ پاکستان کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں جنہوں نے گزشتہ نصف صدی سے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ روزگار کے مواقع بھی مہیا کیے۔ ہم جیسے لوگ تو اس وقت بھی ان کو مجاہدین نہیں بلکہ دہشت گرد ہی سمجھتے تھے جس وقت انہیں ہمارے مذہبی افراد اور ’فاتحینِ افغانستان ‘ مجاہد اور ہماری مغربی سرحدوں کے محافظ گردانتے تھے۔ اب جب ہمارے پچھواڑے میں پالے ہوئے ناگ ہمیں ڈسنے لگے ہیں تو ہمارے تمام سیاستدانوں اور مقتدر اداروں کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا ہے اور اب وہ ان کی بیخ کنی کرنے کی تدابیر سوچنے لگے ہیں لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور عمران خان ابھی تک ہمارے معصوم بچوں کے قاتلوں کے بارے میں ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں اور کھل کر یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور ان کے خلاف کسی فوجی ایکشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ سیاستدان تو کجا کوئی عام غیر سیاسی شخص بھی اس قسم کی ظالمانہ اور غیر انسانی سوچ کا مظاہرہ نہیں کر سکتا جو نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ انسانی حرمت کے بھی سراسر منافی ہے۔ہم کسی پر غداری کا الزام لگانے کے مخالف ہیں لیکن اس رویے کو کیا نام دیا جا سکتا ہے حماقت، پاگل پن،ریاست سے انتقام، سیاسی دیوالیہ پن یا غیر انسانی رویہ ؟آپ اسے کچھ بھی کہیں لیکن اس رویے کے نتائج ایک ہی ہوتے ہیں اور وہ ہے ملک کی تباہی ۔اس سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ شخص جسے اس وقت پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہونے کا دعویٰ ہے ، وہی ذہنی طور پر اس ملک پر حکومت کرنے کے قابل ہے بھی یا نہیں ؟

یا ابھی تک وہ صرف ایک ضدی ، منتقم مزاج اور ہٹ دھرم فاسٹ بالر ہے جو وکٹ لینے سے زیادہ بیٹر کو زخمی کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ طالبان سے یکجہتی کا اظہار ، اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا اور طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد غلامی کی زنجیریں توڑ دینے کے احمقانہ بیان سے ، جادو ٹونے پر یقین رکھنے والے آکسفورڈ یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ عمران خان اور جدید تعلیم سے کوسوں دور طالبان کے درمیان کسی گہری ذہنی ہم آہنگی اور رابطے کا پتہ چلتا ہے جس کا ثبوت وہ دو اہم ترین سوالات ہیں جو جنرل صاحب نے پی ٹی آئی کی قیادت سے پوچھے ہیں اور جنہیں ہر ذی شعور پاکستانی ایک دوسرے سے پوچھ رہا ہے ۔پہلا سوال یہ ہے کہ جب کے پی میں تقریبا ہر سیاسی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف طالبان نے دہشت گردانہ حملے کیے جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تو آج تک طالبان نے پی ٹی آئی کے کسی دفتر یا کارکن پر حملہ کیوں نہیں کیا ؟ ان کے درمیان ایسا کون سا معاہدہ ہے جس کے تحت عمران خان نے ان دہشت گردوں کو کے پی میں لا کر بسایا اور اب وہ اور ان کی حکومت ان کے خلاف کسی بھی فوجی ایکشن کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی حکومت سے لے کر موجودہ حکومت تک کئی بار طالبان کے ساتھ بات چیت کے کئی ادوار ہو چکے ہیں جن میں برادر اسلامی ممالک سعودی عرب ، ایران ، قطر ، ترکیہ اور یو اے ای نے بھی حصہ لیا لیکن طالبان نے اپنا رویہ نہیں بدلا۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ صرف پاکستان ہی نہیں تاجکستان ، ایران اور چین بھی افغانستان سے اس وجہ سے نالاں ہیں کہ انہوں نے قطر معاہدے کے برعکس افغانستان کو دہشت گردی کا گڑھ بنا دیا ہے۔ دوسرا سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ اگر طالبان مذاکرات کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشت گردی بند نہیں کرتے اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ مل کر ہمارے فوجیوں اور سویلینز کا روزانہ خون بہاتے رہتے ہیں تو کیا کیا جائے ؟ کیا ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی اطاعت قبول کر لی جائے اور کے پی کو ان کے حوالے کر کے پاکستان کو خانہ جنگی ، انارکی اور انتشار کی آگ میں جھونک دیا جائے۔ان حالات میں ان کے خلاف جنگ کے علاوہ اور کیا آپشن بچتا ہے ؟عمران خان کے گزشتہ چار سالہ دورِ اقتدار کی مطلق العنانی کے حوالے سے دیکھا جائے تو تصویر اس سے کہیں زیادہ بھیانک نظر آتی ہے ۔شاید یہ دنیا کی تاریخ کے واحد سیاستدان ہیں جو اپنے علاوہ نہ تو کسی سے بات چیت کرنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی کسی پر اعتبار کرتے ہیں۔ آج تو ان کی پارٹی کہہ رہی ہے کہ وہ فارم 47 کی حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے لیکن جب ان کی اپنی آر ٹی ایس کے ذریعے بننے والی حکومت برسر اقتدار تھی وہ تو تب بھی کسی سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس سے بھی پہلے جب وہ اپوزیشن لیڈر تھے اس وقت بھی ان کا یہی رویہ تھا۔ درحقیقت اب وہ اپنے اس نفرت انگیز رویے کے خود قیدی ہو چکے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی ان کی مقبولیت کی وجہ ہے لیکن وہ شاید یہ نہیں جانتے کہ ایسا رویہ ان کی ساکھ کو بڑی تیزی سے تباہ کر رہا ہے کہ کوئی بھی ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ طالبان کے بارے میں تو ان کی پالیسی صریحاً ملک دشمنی پر مبنی ہے جس کی وجہ سے ان کے اپنے ساتھیوں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے ۔جنرل شریف کی پریس کانفرنس سے یہ تاثر واضح طور پر ملتا ہے کہپی ٹی آئی کے اس رویئے کی وجہ سےآنے والے دنوں میں کے پی ، عمران خان اور پاکستان کسی نئے بحران میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ آج کا شعر

قاتل ہی مدعی بھی ہے اور وہ بھی اس طرح

کیا کیا ثبوت اس پہ اس الزام کا نہیں

تازہ ترین