• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گرین لینڈ کے قریب بحرِ منجمد شمالی کی گہرائیوں میں پوشیدہ سمندری دنیا دریافت

--علامتی فوٹو
--علامتی فوٹو

سائنسدانوں نے بحرِ منجمد شمالی کے نیچے گہرائی میں ایک پوشیدہ سمندری دنیا دریافت کی ہے۔ یہ ایک ایسی سمندری دنیا ہے جو گہرے سمندر میں حیات اور زمین میں کاربن کی نقل و حرکت سے متعلق ہماری سمجھ کو بدل رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نئی دریافت شدہ ماحولیاتی نظام سمندر کی سطح سے کہیں نیچے، مکمل تاریکی اور شدید سردی میں واقع ہے، اس کے باوجود یہاں زندگی موجود ہے۔

اس دریافت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ عالمی موسمیاتی سائنس کی تفہیم اور بحرِ منجمد شمالی کی سمندری تہہ سے معدنیات نکالنے سے متعلق سوالات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اس کے نتائج گہرے سمندر میں کان کنی اور سمندری تحفظ سے متعلق بین الاقوامی پالیسی فیصلوں کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے یہ منفرد ماحولیاتی نظام دریافت کیا ہے۔ اس ٹیم نے اب تک دریافت ہونے والے سب سے گہرے میتھین ہائیڈریٹ ٹیلوں کی نشاندہی کی، جنہیں ’فریا ماؤنڈز‘ کا نام دیا گیا۔ یہ ٹیلے گرین لینڈ سی کے مولوئے ریج (Molloy Ridge) پر، بحرِ منجمد شمالی کے نیچے، سمندر کی سطح سے تقریباً ڈھائی میل کی گہرائی میں واقع ہیں۔

یہ تحقیق گزشتہ ماہ سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی اور ناروے کی آرکٹک یونیورسٹی (UiT) نے اسے شیئر کیا۔ مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ گیس ہائیڈریٹس، جو برف نما ساختیں ہوتی ہیں اور جن میں میتھین، دیگر گیسیں اور خام تیل شامل ہوتا ہے، براہِ راست آرکٹک کی سمندری تہہ سے ابھرتے ہیں، جو گہرے سمندر کی حیات کے ایک بھرپور نظام میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ یہاں موجود جاندار سورج کی روشنی کے بغیر زندہ رہتے ہیں اور کیمیائی توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔

بین الاقوامی سائنسدانوں نے اس علاقے کی تحقیق کے لیے ’اورورا‘ نامی ریموٹ کنٹرولڈ گاڑی استعمال کی۔ انہوں نے منجمد میتھین اور تیل کے مخروطی ٹیلے دیکھے، جن میں سے بعض کی چوڑائی چھ میٹر تک تھی اور جن سے گیس کے بلبلے خارج ہو رہے تھے۔

خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید