دنیا میں ہر چیز کو دیکھنے کے دو انداز ہوتے ہیں ۔ ایک قلیل مدتی یا شارٹ ٹرم اور دوسرا لانگ ٹرم۔ دنیا کا جو انسان بھی ویژن رکھتا ہے ، وہ چیزوں کو لانگ ٹرم میں دیکھتا ہے ۔ انسانی تاریخ میں بڑے کارنامے سرانجام دینے والے جب لانگ ٹرم میں سوچ رہے ہوتے تو عا م لوگ جو شارٹ ٹرم میں سوچنے کے عادی تھے، وہ ان کا مذاق اڑاتے۔ جب ایک شخص نے پہلی بار یہ سوچنا شروع کیا کہ ہاتھ سے چھٹنے والی چیز زمین پہ کیوں گرتی ہے ، معلق کیوں نہیں ہو جاتی تویہ بات سننے والے ہر آدمی نے اس کا مذاق اڑایا ہوگا۔ ٹیلیفون ایجاد کرنیوالے گراہم بیل سمیت بڑے بڑے موجدین کو بے تحاشا تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جب انسان شارٹ ٹرم میں سوچ رہا ہوتاہے تو اسکی سوچ ایک چیز سے فوری فائدہ اٹھانے کے گرد گھوم رہی ہوتی ہے ، جس طرح جانور سونگھ کر دیکھتا ہے کہ یہ چیز کھانے کے قابل ہے یا نہیں ۔ اس چیز کا لانگ ٹرم میں کیا نتیجہ نکلے گا، یہ سوال اٹھانے والے پر شارٹ ٹرم والا چڑھ دوڑتا ہے ۔ انسانی عقل کے شارٹ ٹرم میں ہونے کا عالم یہ ہے کہ یہ پلاسٹک ایجاد کرتاہے اور پوراسیارہ تباہ کر لیتاہے۔ پھر بیٹھ کر سوچتا ہے ، پلاسٹک سے نجات کیسے حاصل کی جائے ۔آج ہر انسان مائیکرو پلاسٹک ذرات نگلنے پہ مجبور ہے ۔ پلاسٹک کی تھیلی میں گرم کھانا لے جانابیماری کا پورا بندوبست ہے ۔
انسان جب قوانین بناتا ہے تو وہ شارٹ ٹرم میں سوچتا ہے ۔ بیوی کے حقوق سر آنکھوں پر ، طلاق کی صورت میں آدھی جائیداد کا مطلب مگر کیا ہے ۔ساتھ اگر یہ چھوٹ بھی دیدی جائے کہ شادی کے بغیر ساتھ رہنے اور بچے پیدا کرنے پہ قانون کو کوئی اعتراض نہ ہوگا ۔ کیا عورتیں طلاق کی طرف مائل نہ ہو ں گی اور کیا مرد شادی کی بجائے پارٹنر رکھنا پسند نہ کرینگے ؟ معاشرہ ادھڑ کے رہ جائے گا۔
اسی طرح کا ایک قانون جو انسان نے اپنی طرف سے بڑی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بنایا تھا، وہ یہ کہ مرد آپس میں شادی کر سکتے ہیں اور عورتیں عورتوں سے ۔ ایک ڈاکومنٹری یاد آتی ہے ، جسے یاد کر کے ابکائی آجاتی ہے ۔ دو مردوں نے آپس میں شادی کر رکھی تھی ۔ اس کے بعد انہوں نے ایک لڑکا گود لے لیا۔ اس بیچارے لڑکے کا مستقبل کیا تھا ، وہ صاف ظاہر تھا ۔ دو مردوں اور ایک لڑکے والے اس خاندان کو معاشرہ بڑی پذیرائی بخش رہا تھا ۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے سب پاگل ہو چکے ۔
وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
ایک قانون یہ ہے کہ کوئی عورت اگر اعلان کرے کہ آج سے وہ مرد ہے تو معاشرے کو اسے مرد تسلیم کرنا ہوگا ۔ ایک مرد خود کو عورت قرار دے تواس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوگا ۔ مردوں نے اس قانون کا بے تحاشا فائدہ اٹھایا، خصوصاً کھیلوں کے میدان میں ۔ انسانوں میں مرد قدرتی طور پر زیادہ طاقتور ہوتے ہیں ۔ لیا تھامس نامی ایک تیراک جو مردوں میں آخری نمبر پہ آیا کرتا تھا ، اس نے خود کو عورت ڈکلیر کیا۔ عورتوں کے ساتھ مقابلوں میں باآسانی جیتنے لگا۔ یہی حال ایمان خلیف نامی ایک باکسر کا تھا ۔ ایک میچ میں جب اس نے اپنا بھرپور مردانہ مکا مدمقابل خاتون باکسر کو رسید کیا تووہ چیخ اٹھی کہ ایمان خلیف عورت نہیں مرد ہے ۔ بہرحال اب دانا وبینا انسان سر جوڑ کر بیٹھے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ پیدائشی مرد خواہ خود کو عورت ڈکلیر کر دیں، کھیلوں کے مقابلوں میں انہیں مرد ہی سمجھا جائے گا ۔ لوٹ کے بدھو گھر کو آئے ۔ ہرچہ دانا کند، کند ناداں لیک بعد از خرا بی ء بسیار۔ نادان بھی وہی کرتا ہے ، جو دانا مگر تکلیف اٹھانے کے بعد ۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا ،جو شخص شارٹ ٹرم میں سوچ رہا ہوتا ہے ، وہ لانگ ٹرم میں سوچنے والے کو پاگل ہی سمجھتا ہے ۔ ابرہام لنکن نے جب امریکہ میں غلامی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کی قوم کا ایک قابلِ قدر حصہ اسے پاگل سمجھ رہا تھا کہ بوجھ اٹھانے والے کالوں کو گوروں کے برابر کرنے لگا ہے ۔ صرف ابرہام لنکن یہ سمجھ سکتا تھا کہ دنیا بھر میں جب غلامی ختم ہوتی جا رہی ہے تو امریکیوں کا اس پرڈٹے رہنا کس قدر نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ہمارے بعض دانشور بڑا اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے کیوں غلامی ختم نہیں کی۔ اسلام نے غلام آزاد کرنے کو ایک بہت بڑا ثواب اور بڑے گناہوں کا کفارہ قرار دیا۔ حضرت بلال ؓجیسے غلاموں کو عظیم الشان مرتبہ عطا کیا تو یہ غلامی ختم ہی ہو رہی تھی ۔ اس پر آخری کیل خطبہ حجتہ الوداع میں ٹھونکی گئی ۔رسالت مآب ﷺنے جب یہ ارشاد فرمایا : جو خود کھاؤ، وہ اپنے غلاموں کو کھلاؤ،جو خود پہنو، اپنے غلاموں کو پہناؤ۔ غلام تو زرخرید جانورسمجھے جاتے تھے ۔ ایسے غلام کا کسی نے کیا کرنا تھا ، جسے اپنے جیسا ہی کھلانا اور پہنانا پڑ جائے ۔ وہ تو گھر کا فرد بن گیا۔ غلامی کی جڑ یںجتنی مضبوط تھیں ،اسے ختم کرنے کا قابلِ عمل طریقہ یہی ہو سکتاتھا ۔ دو باتیں عرض کروں گا، ایک عالمی اور ایک پاکستانی سیاست کے بارے میں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک چالاک آدمی ہے ،ہمیشہ شارٹ ٹرم میں سوچنے والا ۔کبھی گرین لینڈ ، کبھی غزہ کی پٹی،کبھی یوکرین کی معدنیات ہتھیانے کا خواب دیکھنے والا۔ وینزویلا کے تیل پہ وہ للچایا ۔ظاہر ہے کہ چین کو تیل کے ان بڑے ذخائر سے محروم کرنا بھی ایک مقصد تھا ۔ اسرائیل بھی ٹرمپ کی سپورٹ سے ہی مغربی کنارے کو ہتھیا رہا اور غزہ کو ناقابلِ رہائش بنا رہا ہے۔ انسانیت اپنے مجموعی شعور کے بل پہ ان چیزوں سے کافی آگے نکل آئی تھی کہ نوآبادیاتی سلطنتیں تخلیق کی جائیں ۔ آپ لکھ لیجیے کہ آخرٹرمپ خاک چاٹے گا ۔ تنازعات سے بچتا ہوا چین کہیں آگے نکل جائے گا۔اسی طرح پاکستان میں جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ایک سیاسی پارٹی کو مصلوب کر کے ملک آگے بڑھ جائے گا، وہ دیوانے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ہمارا کام تھا متنبہ کرنا، اگے تیرے بھاگ لچھیے!