• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی سینیٹر مارک کیلی کا وزارتِ دفاع کیخلاف مقدمہ، آزادانہ اظہارِ رائے کی خلاف ورزی کا الزام

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکی سینیٹر مارک کیلی نے امریکی وزارتِ دفاع اور اس کے سیکریٹری پیٹ ہیگستھ کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ 

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینیٹر کیلی نے وزارتِ دفاع پر الزام عائد کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے خلاف ’انتقامی اور سزا دینے والی کارروائیاں‘ کیں جو ان کے آئینی حقِ آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزی ہے۔

یہ مقدمہ پیر کے روز واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا جس میں امریکی بحریہ اور اس کے سیکریٹری جان فیلن کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ تنازعہ گزشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوا جب سینیٹر کیلی سمیت چھ ڈیموکریٹ قانون سازوں نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں فوجی اہلکاروں کو ’غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار‘ کرنے کی یاد دہانی کروائی گئی تھی۔ 

ڈیموکریٹس کے مطابق یہ پیغام امریکی قانون اور آئین کے عین مطابق تھا تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے اسے ’بغاوت پر اُکسانے‘ کے مترادف قرار دیا۔

ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک کیلی جو امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ کیپٹن بھی رہ چکے ہیں، اس معاملے میں خاص طور پر نشانے پر رہے۔ وزارتِ دفاع نے ویڈیو کے بعد ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا اور حتیٰ کہ کورٹ مارشل کی دھمکی بھی دی۔

اس معاملے پر حال ہی میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ اُنہوں نے سینیٹر کیلی کے خلاف باضابطہ ایک سرکاری لیٹر جاری کیا ہے، جس میں اِن پر ’فوجی نظم و ضبط کو نقصان پہنچانے‘ کا الزام لگایا گیا۔ اس خط میں کیلی کا فوجی رینک کم کرنے اور ریٹائرمنٹ مراعات متاثر کرنے کی سفارش بھی کی گئی تھی۔

سینیٹر کیلی نے ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ناصرف ان کے بلکہ تمام ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کے لیے خطرناک مثال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سابق فوجی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کریں تو انہیں سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔

مقدمے میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ سینیٹر کیلی کے خلاف تمام تادیبی کارروائیاں روکی جائیں اور وزیرِ دفاع کا خط غیر قانونی قرار دیا جائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی منتخب رکنِ کانگریس کو سیاسی اظہار پر فوجی سزا دینا امریکی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور غیر آئینی قدم ہے۔

سینیٹر کیلی نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی رینک محنت اور قربانی سے حاصل کیا جاتا ہے اور برسوں بعد محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اسے چھیننے کی دھمکی دینا ناانصافی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید