دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی نے ایک بار پھر سنگولیریٹی (Technological Singularity) سے متعلق خدشات اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ معروف ارب پتی شخصیت ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانیت سنگولیریٹی کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اے آئی انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔
اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا ہے کہ ’ہم سنگولیریٹی کے آغاز میں ہیں۔‘
ایلون مسک کے مطابق اس وقت انسان سورج کی طاقت کا ایک اربواں حصہ بھی استعمال نہیں کر رہا جو مستقبل میں اے آئی کی بے پناہ ترقی کی طرف اشارہ ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایلون مسک نے اس موضوع پر بات کی ہو۔
گزشتہ ماہ بھی اُنہوں نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ہم سنگولیریٹی میں داخل ہو چکے ہیں اور 2026ء سنگولیریٹی کا سال ہو گا۔
ایلون مسک کے اس بیان نے دنیا بھر میں ایک بڑی تکنیکی تبدیلی کے امکانات کو مزید تقویت دی ہے۔
ادھر ایک نئے وائرل اے آئی پلیٹ فارم Moltbook نے بھی سنگولیریٹی سے متعلق قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے، یہ ایک ریڈٹ طرز کی ایجنٹک اے آئی ویب سائٹ ہے جہاں صرف مصنوعی ذہانت ہی پوسٹ، تبصرے اور ووٹنگ کر سکتی ہے جبکہ انسان صرف تماشائی ہوتے ہیں۔
اس پلیٹ فارم پر اے آئی کمیونٹیز، مذہب اور حتیٰ کہ انسانوں کے خاتمے جیسے موضوعات پر گفتگو کرتی نظر آتی ہے۔
واضح رہے کہ سنگولیریٹی کا تصور پہلی بار 1950ء کی دہائی میں ماہرِ ریاضی جان وان نیومن نے پیش کیا تھا جبکہ 2005ء میں رے کرزویل کی کتاب The Singularity is Near کے بعد یہ نظریہ عالمی سطح پر مقبول ہوا۔
رے کرزویل نے 2024ء میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مستقبل میں انسان اور مشین کی ذہانت ایک دوسرے میں ضم ہو جائے گی اور 2045ء تک انسانی شعور میں لاکھوں گنا اضافہ ہو گا۔
ماہرین کے مطابق ’سنگولیریٹی‘ وہ تاریخی لمحہ ہوگا جب اے آئی ناصرف انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی بلکہ خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر لے گی جس کے بعد ترقی کی رفتار غیر متوقع حد تک تیز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مرحلے کے بعد اے آئی کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہو جائے گی کہ انسان اس پر مکمل کنٹرول یا اس سے متعلق پیش گوئی نہیں کر سکے گا، اس دوران مشینیں ناصرف سیکھیں گی بلکہ اپنے فیصلے خود بہتر بنانے لگیں گی جس سے ٹیکنالوجی، معیشت، طب، تعلیم اور روزمرہ زندگی میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔