• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن: قتل کی شرح 2014ء کے بعد 2025ء میں کم ترین سطح پر پہنچ گئی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

لندن میں قتل کی وارداتوں کی تعداد ایک دہائی سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

میٹ پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں دارالحکومت میں قتل کے 97 واقعات پیش آئے جو کہ 2024ء میں پیش آنے والے 109 واقعات کے مقابلے میں 11 فیصد کم تھے۔ یہ 11 برس قبل 2014ء میں قتل کی وارداتوں کے بعد ریکارڈ کی جانے والی سب سے کم تعداد ہے۔ 

میٹ پولیس کے مطابق گزشتہ دہائی میں لندن کی بڑھتی آبادی کے باوجود گزشتہ برس فی کس قتل کی وارداتیں سب سے کم رہیں جو ایک لاکھ میں 1.1 فیصد کے مساوی ہیں۔

فورس کے مطابق دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی نسبت لندن میں قتل کی وارداتیں کم ہوئیں، مثال کے طور پر نیویارک میں یہ شرح ایک لاکھ میں 2.8 ، برلن میں 3.2 اور پیرس میں 1.6 فیصد تھی۔

میٹ پولیس کے کمشنر سر مارک رولی نے کہا کہ لندن میں قتل کی وارداتوں میں کمی فورس کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، افسران نے ہر ماہ جدید ٹیکنالوجی، جیسے فیشل ریکگنیشن کی مدد سے خطرناک گینگز، منظم جرائم پیشہ ور افراد اور خواتین و بچوں کو نشانہ بنانے والے تقریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

میٹ پولیس کے مطابق اس صدی میں نوجوانوں کو تشدد سے روکنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ 

2021ء کے بعد ٹین ایجر متاثرین میں 73 فیصد کمی واقع ہوئی، یہ تعداد گزشتہ برس 30 تھی جو 2025ء میں کم ہو کر 8 رہ گئی ہے۔

دوسری جانب لندن کے میئر صادق خان نے کہا ہے کہ بہت سے لوگ لندن کی ناکامی کی بات کرتے ہیں لیکن شواہد ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔ 

اِن کا کہنا تھا کہ جرائم اور اس کی پیچیدہ وجوہات پر مسلسل توجہ دے کر کام کرنے کے نتائج اب ظاہر ہو رہے ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید