سائنس دانوں نے وزن کم کرنے کے اہم فوائد میں سے ایک دریافت کیا ہے، سائنس دانوں کے مطابق چاہے صرف چند پاؤنڈ ہی وزن کیوں نہ کم کیا گیا ہو۔ وزن کم کرنے سے مدافعتی نظام نئے سرے سے ترتیب پاتا ہے، جس کے نتیجے میں بیماریوں کا خطرہ کافی کم ہو جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزن کم کرنے کی کوششیں جسم میں موجود چربی کے خلیات کو خود بھی زیادہ صحت مند بنا دیتی ہیں۔ کیونکہ جب کوئی شخص بہت زیادہ موٹا ہوتا ہے تو اس کے جسم میں موجود چربی کے ٹشوز نقصان دہ سوجن پیدا کرتے ہیں جسے سوزش کہا جاتا ہے اور یہ مدافعتی نظام پر دباؤ ڈالتی ہے۔
یہ اہم دریافت یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے سائنسدانوں نے کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ لوگ وزن کم کرتے ہیں تو ان کے جسم میں بننے والے نئے چربی کے خلیے اس طرح کی سوزش پیدا کرنے کے امکانات کم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ جسم کے لیے کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ساری اضافی چربی بھی ختم نہ کر سکے تو بھی اس کی صحت میں بہتری آتی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں دو تہائی بالغ افراد کا وزن نارمل سے زیادہ ہے اور ہر دس میں سے تین افراد موٹاپے کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ڈیمنشیا اور کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے ان افراد کے نمونوں کا معائنہ کیا جنہوں نے معدے کی بائی پاس سرجری کروائی تھی اور دو سال کے دوران اپنے جسمانی وزن کا 20 سے 45 فیصد تک کم کیا تھا۔ ان میں تبدیلیاں حیران کن تھیں اور مدافعتی خلیات کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور کئی اقسام کے مدافعتی خلیات ان سطحوں تک آ گئیں جو عموماً دبلے پتلے افراد میں پائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور موٹاپے سے متعلق دیگر صحت کے مسائل کے خطرات کم ہو جائیں گے۔ جرنل نیچر میٹابولزم میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ انکے خون کی گردش میں بہتری آئی اور جینیاتی ایررز میں بھی کمی آئی، جس سے کینسر کے خطرے میں امکانی طور پر کمی آ سکتی ہے۔
اس تحقیقی ٹیم کی شریک مصنفہ پروفیسر سوزین مینڈروپ نے کہا کہ ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمولی وزن میں کمی بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ زیادہ وزن کم ہونے کے بعد، چربی کا ٹشو بڑی حد تک دبلے افراد کے ٹشو جیسا ہو جاتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مٹاپے کی یادداشت اتنی مستقل نہیں جتنی پہلے تھی۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔