• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی دفاعی و سفارتی حلقوں کی پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک ممکنہ سہ فریقی دفاعی اتحاد سے متعلق اطلاعات پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم ہونے والے دفاعی فریم ورک میں شمولیت کیلئے اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہا ہے، تاہم تینوں ممالک کی جانب سے تاحال کسی باضابطہ تصدیق یا تردید کا اعلان سامنے نہیں آیا۔بلومبرگ کے مطابق مجوزہ اتحاد کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔نئے ممکنہ اتحاد کی صورت میںکسی ایک رکن ملک پر حملہ، تینوں ممالک پر تصور کیا جائیگا۔تجزیہ کاروں کےمطابق سعودی عرب کی دفاعی سرمایہ کاری کی صلاحیت، پاکستان کی فوجی تجربہ کاری، میزائل، جوہری پروگرام اور ترکیہ کی بڑی، تجربہ کار فوج کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت، اس ممکنہ اتحاد کوایک کثیرالجہتی اسٹریٹجک پلیٹ فارم میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں۔ ترکیہ نے پاکستان نیوی کیلئے جدید جنگی جہازتیار کیے ہیں، جبکہ پاکستانی فضائیہ کے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی تعاون کیاہے۔ اسکے علاوہ ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید فضائی منصوبوں، جن میں ترکیہ کے پانچویں نسل کے جنگی طیارے کا پروگرام بھی شامل ہے، پر بات چیت جاری ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات ،پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی اور افغانستان سے متعلق سلامتی کے مسائل ان ممالک کو نئے دفاعی فریم ورک پر غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔اسرائیل اور بھارت اس ممکنہ اتحادپر تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ پاکستان جوہری طاقت کا مالک ہے اور یہ حیثیت محض علامتی نہیں بلکہ ایک مکمل، منظم اور قابلِ عمل نیوکلیئر ڈیٹرنس سسٹم پر مبنی ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام نہ صرف دفاعی توازن قائم رکھتا ہے بلکہ پورے خطے میں جنگ کو روکنے کا بنیادی سبب بھی ہے۔پاکستان کی روایتی فوجی طاقت بھی کسی طور کم نہیں ۔ چار روزہ پاک - بھارت تصادم کے دوران دنیا نے بھارت کوپاکستان کی مؤثر، متوازن اور نپی تلی عسکری حکمتِ عملی کے سامنے ڈھیر ہوتے ہوئے دیکھا۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کی خواہش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ممکنہ اتحاد میں شامل ہونے کے خواہاںملک،ترکیہ نے گزشتہ دو دہائیوں میں جس طرح دفاعی صنعت میں انقلابی پیشرفت کی ہے، اس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ترکیہ اب اپنے ڈرون، جنگی جہاز، میزائل، بحری جہاز اور الیکٹرانک وار فیئر سسٹمز خود تیار کر رہا ہے۔ترکیہ کے تیار کردہ ڈرونز، خصوصاً Bayraktar TB2 اور Akıncı، نے لیبیا، شام، آذربائیجان اور یوکرین جیسے تنازعات میں جنگ کے انداز کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ ترکیہ کا پانچویں نسل کا جنگی طیارہ KAAN اعلیٰ ترین فضائی ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ اسی طرح بغیر پائلٹ کا جنگی طیارہ ’’قزل ایلما‘‘ اپنی رفتار، اسٹیلتھ اور خودکار فیصلہ سازی کی صلاحیت کے باعث توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی جڑیں عوامی جذبات، مشترکہ چیلنجز اور یکساں وژن میں پیوست ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی پیداوار میں شراکت داری اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تعلق وقتی نہیں بلکہ طویل المدت اسٹریٹجک شراکت ہے۔اکیسویں صدی کی عالمی سیاست میں طاقت کا توازن اب صرف بندوق اور بارود سے نہیں بلکہ سرمایہ، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شراکت داری سے طے ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کی عسکری قوت، ترکیہ کی دفاعی صنعت اور سعودی عرب کی مالی طاقت ایک ہی اسٹریٹجک چھتری تلے جمع ہو جائیں تو یہ محض ایک اتحاد نہیں بلکہ عالمی طاقت کے نئے مرکز کا ظہورثابت ہو سکتا ہے۔سعودی عرب دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہے۔ تیل کی دولت اب محض قومی خزانے تک محدود نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں سعودی اثر و رسوخ کی بنیاد بن چکی ہے۔ سعودی عرب کی مالی قوت کو اگر دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو سہ فریقی دفاعی اتحاد کو دنیا کے طاقتور ترین اتحادوں کی صف میں لا کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔حالیہ پاک-بھارت جنگ کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک اہم معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے جسے اب وسعت دی جا رہی ہے اور ترکیہ اس میں شمولیت اختیار کرنے جا رہا ہے۔ یوں یہ تعاون دو فریقی اتحاد کی بجائے سہ فریقی دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس میں فوجی تعاون، مشترکہ تربیت، دفاعی پیداوار اور اسٹریٹجک ہم آہنگی شامل ہوگی۔اس سہ فریقی اتحاد کا سب سے بڑا اور دیرپا اثر اسلامی دنیا پر پڑسکتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے مسلم ممالک عسکری طور پر بکھرے ہوئےہیں، مگر اب پہلی بار ایک ایسا امکان سامنے آ رہا ہے جس میں طاقت،اللّٰہ ٹیکنالوجی اور سرمایہ ایک ہی سمت میں مجتمع ہو سکتے ہیں۔یہ اتحاد اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ مسلم دنیا کیلئے محض دفاعی تحفظ نہیں بلکہ اعتماد، خودداری اور اجتماعی قوت کی علامت بن سکتا ہے۔

تازہ ترین