کراچی (نیوز ڈیسک)غزہ میں طوفان اور شدید سردی سے انسانی بحران سنگین، پانچ فلسطینی شہید، امدادبندش سے مزیداموات کا خطرہ،سرد ہوا، بارش اور تیز ہواؤں کے نتیجے میں ہزاروں لوگ کمزور خیموں اور ناقص پناہ گاہوں میں محصور ، 4شہادتیں عمارتیں گرنے سے ہوئیں،شدید سردی سے بیمار ہونے والے افراد میں اضافہ ، ایک سالہ بچہ ہائپوتھرمیا سے لقمہ اجل،طبی سامان کی بندش انسانی بحران کو بڑھا رہی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں شدید سردی اور طوفانی باؤرش کے باعث کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہو گئے جب وہ عمارتیں گرنے کی زد میں آئے جو پہلے اسرائیلی حملوں سے نقصان زدہ تھیں۔ متعدد افراد، جن میں ایک سالہ بچہ بھی شامل ہے، شدید سردی کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔ غزہ میں سرد ہوا، بارش اور تیز ہواؤں کے نتیجے میں ہزاروں لوگ کمزور خیموں اور ناقص پناہ گاہوں میں محصور ہیں، جہاں زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہے۔شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے خبردار کیا کہ طوفان کے اثرات غزہ کی آبادی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پہلے ہی اسرائیل کی جنگی کارروائیوں اور پابندیوں کے سبب پناہ گاہ سے محروم ہیں۔ الرساں ہسپتال اور الشفاء ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ کچھ عمارتیں مکمل طور پر گر گئیں، جن میں تین افراد بشمول 15 سالہ لڑکی شہید ہوئی، جبکہ ایک اور شخص دوسرے حادثے میں جان سے گیا۔امداد کی کمی اور اسرائیل کی پناہ گاہوں اور طبی سامان کی بندش نے صورتحال کو اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔