امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کیلئے امیگرنٹ ویزا پراسیس روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاق 21 جنوری سے ہوگا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو اس کی تصدیق کی اور کہا کہ امیگرنٹس امریکی عوام کے ٹیکسز کی رقم سے استفادہ کرتے تھے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ ممالک میں صومالیہ، روس، ایران، افغانستان، برازیل، نائجیریا اور تھائی لینڈ، عراق، اردن، قازقستان، کویت، کرغزستان، لبنان، لیبیا، نیپال، کانگو، روانڈا، سوڈان ، شام، تنزانیہ، ازبکستان شامل ہیں۔
پاکستان، افغانستان، روس اور ایران کے لیے بھی امیگرنٹ ویزا پراسس روک دیا گیا ہے۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے میمو میں امریکی سفارت خانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ طریقہ کار کے ازسرر نو جائزہ لینے تک ویزا درخواستیں مسترد کی جائیں۔
بتایا جاتا ہے کہ اقدام وسیع پیمانے پر امیگریشن کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہے جسے صدر ٹرمپ نے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے آگے بڑھایا ہے۔
اس سے قبل نومبر میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ تیسری دنیا کے ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روک دیں گے۔ یاد رہے کہ یہ اقدام ایک افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کے بعد کیا گیا تھا جس میں نیشنل گارڈ کا ایک رکن ہلاک ہو گیا تھا۔