• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف خود کو صوبے کی ماں کے طور پر متعارف کرواتی ہیں جبکہ ریاست کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ اسے اپنے شہری بچوں کی طرح عزیز ہیں۔ دستور پاکستان کی وفعہ 38جس میں فلاحی ریاست کا تصور واضح کیا گیا ہے اسکی ذیلی دفعہ (د)میں یہ یقین دہانی شامل ہے کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی جیسا کہ روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور طبی سہولیات فراہم کریگی۔ افسوسناک حقیقت مگریہ ہے کہ ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے حوالے سے صورتحال سنگین اور بدترہوتی چلی جارہی ہے۔ پہلے تو یہ شکایات ہوتی تھیں کہ بنیادی مراکز صحت میں ادویات دستیاب نہیں، مشینری کی کمی ہے یا پھرعملہ دیانتداری سے کام نہیں کر رہا مگر اب حکومت پنجاب نے انہیں نجی شعبہ کے حوالے کردیا ہے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔گزشتہ ہفتے شادی کی تقریبات کے سلسلے میں ملتان اور بہاولپور جانے کا اتفاق ہوا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ اب سرکاری اسپتال کا تصور ختم ہوچکا ہے۔تحصیل شجاع آباد کا نواحی قصبہ راجہ رام جو اب ظریف شہید کہلاتا ہے ،وہاں نصف شب ایک خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش متوقع تھی، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اسے بہاولپور لیجانا پڑا کیونکہ بنیادی مرکز صحت BHUجہاں کبھی بہتر سہولیات میسر ہوا کرتی تھیں، وہاں اب تجربہ کار سرکاری عملہ کے بجائے کم معاوضے پرایسا نجی عملہ بھرتی کیا گیا ہے جس سے علاج کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔ اگرچہ ٹھیکہ لینے والوں کا موقف ہے کہ عوام کو پہلےسے بہتر سہولیات میسر ہیں مگر حقائق اسکے برعکس ہیں۔میری لاعلمی اور جہالت ملاحظہ فرمائیں کہ جنوبی پنجاب جاکر معلوم ہوا کہ پنجاب بھر کے ہزاروں بنیادی مراکزِ صحت کو نجی شعبہ کے حوالے کیا جاچکا ہے اوراب یہ Basic Health Unitمریم نواز کلینک کہلاتے ہیں۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ 2026ء میں نہ صرف بڑے اسپتالوں کی نجکاری کا فیصلہ ہوچکا ہے بلکہ وزیر اعلیٰ ’’کلینک آن ویلز‘‘ نامی جس منصوبے کا کریڈٹ لیتی رہیں ،اب اسے بھی نجی شعبہ کے حوالے کیا جارہا ہے۔ مریم نوازشریف نے مئی 2024ء میںیہ منصوبہ شروع کیا ،جون 2025ء میں’’ کلینک آن ویلز ‘‘نامی اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا اور اب جنوری 2026ء میںاس منصوبے کی بساط لپیٹنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔971کلینک آن ویلز، 590دیہی ایمبولینسوں اور111فیلڈ موبائل ہیلتھ یونٹس کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کیلئے درخواستیں طلب کرلی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اس منصوبے کو چلا نہیں سکتی تھی تو پھر شروع ہی کیوں کیا تھا؟بنیادی مراکز صحت کے حوالے سے پنجاب حکومت کا اصرار ہے کہ انکی نجکاری نہیں کی گئی بلکہ ’’آئوٹ سورس ‘‘کیا گیا ہے۔ حکومت نے ٹھیکہ پر دیئے گئے ہر بنیادی مرکز صحت کیلئے 7سے8لاکھ روپے کی رقم مختص کی ہے ۔ہر مریض کے چیک اپ پر 400روپے دیئے جاتے ہیں جبکہ بچے کی پیدائش پر 5سے6ہزار روپے کی ادائیگی ہوتی ہے۔ یہاں تعینات سرکاری عملے کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور انکی جگہ ٹھیکیدار کو اپنی مرضی کا اسٹاف تعینات کرنیکا اختیار دیا گیا ہے۔ مریضوں کے چیک اپ پر ادائیگی کی مد میںماہانہ 1100کی حد مقرر کی گئی ہے،یعنی اس سے زیادہ مریض آئینگے تو پیمنٹ 1100کی ہی ہوگی۔ اسی طرح ڈیلیوری کے حوالے سے بھی 30کی حد مقرر ہے۔ ٹھیکیدار نے نہ صرف تمام بلوں کی ادائیگی کرنا ہے بلکہ عملے کی تنخواہوں اور ادویات کا بندوبست بھی کرنا ہے۔ اب ایک انجیکشن جو پانچ سو روپے کا ہے وہی مارکیٹ میں 50روپے کا بھی دستیاب ہے۔ جب محدود وسائل میں کسی شخص نے کلینک چلانا ہو اور اپنے لئے پیسے بھی بچانا ہوں تو یقیناً سب سے سستی ادویات ہی خریدی جائیں گی ۔جب حکومت بڑے پیمانے پر ادویات خریدتی ہےتو نہ صرف قیمت کم ہوتی ہے بلکہ انکا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔ وہی ماڈل ہے جو چند برس قبل پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن (PEF)کے ذریعے اسکولز کے حوالے سے اپنایا گیا تھا۔ حکومت اس بات میں خوش ہے کہ سرکاری خزانے کا بوجھ کم ہوگیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان مراکز صحت کو ٹھیکے پر لینے والوں کی چاندی ہوگئی ہے۔ کئی مراکز صحت ایسے ہیں جو وسیع و عریض رقبے پر محیط ہیں ،خاصی مہنگی مشینری اور انفراسٹرکچر مل گیا ہے اور ہر مہینے حکومت سے ٹھیکے کی مد میں معقول رقم بھی آجاتی ہے۔ اب یہاں ٹھیکیدار کوئی بھی ہو،اسکی کوشش ہوگی کہ اخراجات کم سے کم ہوں۔ یہاں کام کرنیوالے اسٹاف کی تنخواہیں سرکاری اسپتالوں کی نسبت کم اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ عوام نے ’’آئوٹ سورس‘‘ کئے گئے ان مراکز صحت کا رُخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ایک عام آدمی جسے طویل انتظار کے بعدسہی علاج کی سہولت میسر آجاتی تھی، اب اسکے پاس کوئی آپشن نہیں رہا۔ جس طرح عدلیہ میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ سے بہت کم لوگوں کو واسطہ پڑتا ہے،زیادہ تر مسائل ماتحت عدلیہ میں ہی حل ہوجاتے ہیں اسی طرح نظام صحت میں بھی پرائمری ہیلتھ کیئر بنیادی ستون ہے ۔80فیصد مریض جنکو ٹائیفائیڈ، ملیریا اور اس نوعیت کے دیگر امراض کا سامنا ہوتا ہے، انہیں گھر کے قریب ہی بنیادی مرکز صحت میں علاج کی سہولت میسر تھی جسے اب ’’آئوٹ سورس‘‘ کردیا گیا ہے۔اطلاعات یہ ہیں کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ایسا کیا جا رہا ہے۔ اگر حکومتوں نے اخراجات گھٹانے ہیں تو افسر شاہی کی مراعات کم کی جائیں، اثاثہ جات فروخت کرنے ہیں تو کئی ایکٹر پر محیط اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی شاہانہ رہائش گاہوں کی نیلامی کی جائے۔ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں سمیت بیشمار سرکاری ادارے ہیں جن کی نجکاری سے خزانے پر بوجھ کم کیاجاسکتا ہے لیکن صحت اور تعلیم کو تو ’’آئوٹ سورس‘‘ نہ کریں۔ اگر یہ سب ختم ہوگیا تو پھر صحت اور تعلیم کی وزارت کا کیا کام باقی رہ جائیگا؟ بنیادی مراکز صحت کا نام تبدیل کرکے ’’مریم نواز کلینک‘‘رکھنا بھی قابل ستائش عمل نہیں لیکن اگر نام بدل ہی لیا ہے تو وزیراعلیٰ پنجاب کم ازکم اپنے نام کی لاج کا اہتمام کریں ۔

تازہ ترین