کلونجی جسے نگيلا سیٹیوا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ صدیوں سے بطور دوا اور مسالہ استعمال کی جا رہی ہے۔ جدید سائنسی تحقیق نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کلونجی مجموعی صحت کے لیے بے شمار فوائد رکھتی ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق کلونجی کی متوازن مقدار کو روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرنا چاہیے، اس کے باقاعدہ استعمال سے کئی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہے۔
قوتِ مدافعت میں اضافہ
کلونجی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور تھائموکوئنون جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہ موسمی نزلہ، زکام اور انفیکشن سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ شہد کے ساتھ پسی ہوئی کلونجی یا کلونجی کی چائے میں شہد ڈال کر پینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
نظامِ ہاضمہ بہتر بناتی ہے
کلونجی معدے کی گیس، بدہضمی اور تیزابیت میں آرام دیتی ہے۔ یہ معدے کے افعال کو بہتر بناتی ہے اور پیٹ کے درد کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے خاص طور پر مسالے دار کھانوں کے بعد۔
شوگر لیول کو قابو میں رکھنے میں مددگار
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کلونجی خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے اور انسولین کی حساسیت بہتر بنانے میں معاون ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ غذا کے ساتھ بطور معاون غذائی جز مفید ہو سکتی ہے۔
دل کی صحت کے لیے فائدہ مند
کلونجی خراب کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) اور ٹرائی گلسرائیڈز کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اس میں موجود گُڈ فیٹس دل کے پٹھوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔
جِلد اور بالوں کے لیے مفید
کلونجی کی اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات جِلد کے دانوں اور جلن میں فائدہ دیتے ہیں۔
کلونجی کا تیل بالوں کی جڑوں کو مضبوط، خشکی کم اور بالوں کے گرنے کی رفتار سست کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
استعمال کے آسان طریقے
کلونجی کو سالن کے تڑکے، دہی، سلاد، پانی میں بھگو کر یا کالونجی کے تیل کی صورت میں روزمرہ خوراک کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی ایک قدرتی، سستا اور آسانی سے دستیاب غذائی جز ہے جو مدافعت، دل، شوگر، ہاضمے اور حُسن و صحت کے لیے یکساں مفید ہے۔
روزانہ معمولی مقدار میں اس کا استعمال مجموعی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔