• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ میں اگر ،مگر کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی لیکن انسان اپنی افتاد طبع کے باعث یہ ضرور سوچتا ہے کہ اگر یہ نہ ہوتا تو تاریخ مختلف ہوتی۔ اکثر یہ بات کی جاتی ہے کہ میجر جنرل افتخار خان جنہیں نواب لیاقت علی خان نے جنرل گریسی کے بعد سپہ سالار تعینات کیا تھا، اگر وہ زندہ رہتے تو ہماری تاریخ مختلف ہوتی۔ یہ مفروضہ کس حد تک درست ہے، آج ہم یہی گتھی سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل17جنوری 1951ء کو جنرل ایوب خان نے افواج پاکستان کے پہلے مقامی کمانڈر انچیف کے طور پر بری فوج کی قیادت سنبھالی مگر اس سے پہلے کیا ہوا؟ تاجِ برطانیہ نے تقسیم ہند کے وقت فسادات کی روک تھام کیلئے پنجاب بائونڈری فورس تشکیل دی جسکا مرکزی دفتر لاہور میں تھا ۔ ایک مسلمان کرنل کو بھی اس بائونڈری فورس میں اہم عہدہ دیا گیا۔ ایک روز خبر ملی کہ بھارت سے پاکستان کی طرف آنیوالے مہاجرین کی ٹرین کو مشرقی پنجاب میں روک کر تمام مسافروں کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس ٹرین کی حفاظت پر مامور پاکستانی کرنل خاموش تماشائی بنے رہے۔ یہ خبر سنتے ہی لوگ مشتعل ہوگئے ،حالات اس قدر سنگین ہوئے کہ ممکنہ خدشات کے پیش نظر اس کرنل کی اہلیہ اور بچوں کو ایک اور فوجی افسر کی رہائشگاہ پر منتقل کرنا پڑا۔اس کرنل کا نام ایوب خان ہے جو نہ صرف پاک فوج کے کمانڈر انچیف بننے میں کامیاب ہوئے بلکہ بعد ازاں بزعم خود فیلڈ مارشل اور صدر پاکستان بھی بن گئے۔برٹش کامن ویلتھ آفس کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق عسکری حکمت عملی کے اعتبار سے کرنل ایوب خان اوسط درجے کے افسر تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما میں تعینات آسام رجمنٹ کے کمانڈنٹ کرنل ڈبلیو ایف برائون کی ہلاکت کے بعد رجمنٹ کی کمان کرنل ایوب خان کو سونپی گئی مگر جنگی حکمت عملی میں بزدلانہ ناکامی کے بعد کمان واپس لیکر نہ صرف بھارت بھیج دیا گیا بلکہ ملازمت سے برطرف کرنیکی سفارش بھی کی گئی ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک ایسا فوجی افسرجسے فوج سے نکالنے کا فیصلہ ہو چکا تھا ،قیام پاکستان کے بعد اس نے 4سال کے مختصر عرصہ میں کرنل سے جنرل تک ترقی کا سفر باآسانی طے کرلیا ۔دوسرے کمانڈر انچیف جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی انکے جانشین کے طور پر میجر جنرل افتخار کا انتخاب ہو چکا تھا ،کمانڈر انچیف نامزد ہونے پر جنرل افتخار کو امپیریل ڈیفنس کورس کیلئے برطانیہ بھیجا گیا ،بریگیڈیئر شیر خان جو ڈی ڈی ایم او تھے اور اب انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی جانا تھی ،وہ بھی کورس کیلئےبرطانیہ جا رہے تھے ۔13دسمبر 1949ء کو جنرل افتخار اوریئنٹ ایئرویز کی لاہور سے کراچی جانیوالی فلائٹ پر سوار ہوئے تو انکے اہلخانہ کے علاوہ بریگیڈئر شیر خان بھی اسی جہاز میںتھے ،یہ جہاز اپنی منزل کے قریب پہنچ کر کراچی کے نواحی علاقے جنگ شاہی میں گر کر تباہ ہوگیااور تمام مسافرلقمہ اجل بن گئے۔ پاکستان کی عسکری وسیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ حادثہ پیش نہ آتا اور جنرل افتخار کمانڈر انچیف بننے سے پہلے شہید نہ ہوتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ایوب خان کے برعکس جنرل افتخار اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنیوالے غیر سیاسی جرنیل تھے انکی اصول پسندی سے متعلق ایک واقعہ آپ کیلئے یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگا ۔جنرل افتخار جب جے او اسی لاہور تھے تو انہوںنے آئی جی پنجاب قربان علی خان کو کینٹ میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔اگرچہ دونوں بہت اچھے دوست تھے مگر اس وقت کے فوجی قوانین کے مطابق کسی سویلین کو کینٹ کی حدود میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی۔قربان علی خان نے گورنر پنجاب فرانسز موڈی سے بات کی تو انہوں نے کمانڈرانچیف جنرل گریسی سےشکایت کر دی۔ جنرل گریسی بھی اصول پسندتھے انہوں نے کہا کہ جنرل افتخار نے انکار کرکے فوجی قوانین کی پاسداری کی ہے مگر آپ اپنے عہدے کے برعکس فوجی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔جنرل ایوب خان کے کمانڈر انچیف بننے کے بعد جنرل اعظم خان لاہور کے جنرل کمانڈنگ آفسیر تعینات ہوئے تو نہ صرف قربان علی خان کو کینٹ میں رہنے کی اجازت مل گئی بلک سب کیلئےفلڈ گیٹ کھل گیا ۔جنرل افتخار کے حادثے کے بعد جنرل گریسی کی مدت ملازمت میں ایک سال کیلئے توسیع کرنا پڑی اور جب دوبارہ انکا جانشین ڈھونڈنے کی کارروائی شروع ہوئی تو لیفٹیننٹ جنرل ناصر علی خان ، جنرل NAMرضا اور جنرل ایوب خان کے نام تجویز کئے گئے، وزیراعظم لیاقت علی خان نے تمام فوجی افسروں کو بلاکر قومی معاملات پر گفتگو کرنے کی اجازت دی تو ایوب خان چرب زبانی کے باعث جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے البتہ جنرل گریسی نے لیاقت علی خان کو متنبہ کیا کہ ایوب خان کے سیاسی عزائم ہیں ،اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔میجر جنرل ڈاکٹر شیر علی پٹودی اپنی تصنیف ’’Soldiering and politicsin India and Pakistan‘‘میں لکھتے ہیں کہ جنرل افتخارزندہ رہتے تو پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی ۔لیکن میجر جنرل سید شاہد حامد جنہیں آئی ایس آئی کا بانی قرار دیا جاتا ہے وہ اپنی کتاب ’’Early years of Pakistan‘‘میں اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے ۔میجر جنرل شاہد حامد کے مطابق ایوب خان جاہ طلب تھے مگر افتخار بھی کچھ کم نہ تھے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر جنرل افتخار زندہ رہتے تو فوج سیاست میں ملوث نہ ہوتی۔یہ بات درست نہیں۔افتخار اور میرا تعلق ایک ہی رجمنٹ سے ہے اور اسے مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ہم دونوں ایک ہی بنگلے میں رہے۔وہ نہ صرف بے رحم تھے بلکہ سیاستدانوں سے نفرت کیا کرتے تھے۔ان کا خیال تھا کہ بھارت سے آئے لوگوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور وہ اپنے ان خیالات کا کھلے عام اظہار کیا کرتے تھے۔وہ انگریزوں سے زیادہ انگریز تھے اور ایک پارسی خاتون سے شادی کررکھی تھی۔اگر وہ کمانڈر انچیف بن جاتے تو پاکستان کی تاریخ ہرگز مختلف نہ ہوتی۔

تازہ ترین