بسترِ مرگ پہ بادشاہ نے اپنے فرزند کو احمقانہ فیصلے کرتے دیکھا اور بولا :ہر گزرتی ساعت کیساتھ دنیا بد سے بدتر ہوتی چلی جار ہی ہے۔ دنیا ہمیشہ سے ایسی ہی تھی، دائم ایسی رہے گی۔ آج جبکہ اس نیلے سیارے پہ انسان کو تین لاکھ سال گزر چکے، دنیا کی حالت کیا ہے؟ تہذیب یافتہ امریکہ اور یورپ لیبیا اور عراق جیسے ممالک میں حکومت گرا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی خانہ جنگی میں خواہ لاکھوں انسان قتل ہو جائیں، انہیں کوئی سروکار نہیں۔ یہی کھیل اب ایران میں دہرایا جانا ہے۔
پچھلے برس ایران پہ اسرائیلی حملے کے دوران دنیا کے سات بڑے لیڈرز نے اکھٹے ہو کر ایران کی شدید مذمت کی کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ جنگ اسرائیل نے شروع کی تھی جو کب کا ایٹم بم بنا چکا۔ کسی زبان سے اسکی مذمت نہ ہوسکی۔ تہذیب یافتہ یورپ نے امریکی ایما پر ایرانی معیشت کا گلا گھونٹ رکھا ہے۔ بھوک افلاس کی شدت سے اب مظاہرے ہو رہے ہیں۔ خود ایرانی اور افغان رجیم شہریوں بالخصوص خواتین کو کہاں آزادی کا کوئی سانس لینے دیتے ہیں۔ ہر جگہ ظلم ہے، ہر کہیں جبر۔
اقوامِ متحدہ میں پوری دنیا کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں مگر شاید ہی کبھی کسی نے انصاف کی بات کی ہو۔ اقوام متحدہ تو منافقت کا مینار ہے۔ امریکہ نے وینزویلا پہ قبضہ کر لیا۔ ٹرمپ گرین لینڈ ہتھیانا چاہتا ہے۔ امریکہ اوریورپ میں اختلافات پیدا ہو رہے ہیں ۔ نیٹو شاید اب تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یوکرین میں روس نواز حکومت انہوں نے گرائی اور آج تک پچھتا رہے ہیں۔ روس کی جنگ درحقیقت یوکرین سے نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ سے ہو رہی ہے۔ بی بی سی کے مطابق روس کی طرف سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ روسی مگر ہنوز لڑنے مرنے پر تیار ہیں۔ یورپی کانپ رہے ہیں۔ ایک ماہ پہلے برطانوی آرمی چیف سررچرڈ نائٹن نے کہا: روسی خطرہ بے حد بڑھ چکا۔ برطانیہ کے بیٹے اور بیٹیاں جنگ لڑنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ شہریوں سے پوچھا گیا تو وہ بولے : ہم کیوں مریں ؟ پچھلے برس مارچ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر سے کہا : تم تیسری عالمی جنگ کا جوا کھیل رہے ہو۔ اگر ہمارے ہتھیار تمہیں مہیا نہ ہوں ، تم دو ہفتے میں یہ جنگ ہار جائو۔ درحقیقت یوکرین نہیں، ٹرمپ تیسری جنگِ عظیم کا جوا کھیل رہا ہے۔
امریکی سرپرستی میں اسرائیل مسلسل مغربی کنارے پہ قبضہ کر رہا ہے ۔ غزہ ملبے کا ایک ڈھیر ہے۔ سورۃ النسا کی آیت 97 کے مطابق جب مسلمان کسی علاقے میں مسلسل ظلم کا شکار ہوں تو انہیں ہجرت کر جانی چاہئے۔ دنیا کے پچاس سے زیادہ مسلمان ممالک نے کبھی نہیں سوچا کہ فلسطینیوں کو اس عذاب سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔
امریکہ نے کیا کسی پہ رحم کرنا ہے، جب اسکی بنیاد ہی ساڑھے پانچ کروڑ ریڈ اینڈینز کے قتل پہ استوار ہو ۔ یونیورسٹی کالج لندن کی ایک تحقیق بتاتی ہے :قتل و غارت اتنی زیادہ تھی کہ وسیع علاقے ویران ہو کر جنگل بن گئے ۔ عالمی آب و ہوا پہ اس کا فرق پڑا ۔ ظہیر الدین بابر کی خودنوشت بتاتی ہے کہ بادشاہ لشکروں کیساتھ نکلتے تو راستے میں آنے والا سب مال اسباب لوٹ لیتے۔ اب بظاہر اقوام متحدہ بن چکا لیکن آج بھی وینزویلا سے لیکر فلسطین اور کشمیر سے یوکرین تک، وہی کھیل دہرایا جا رہا ہے۔ یہ کھیل انسانیت اپنے آخری سانس تک دہراتی رہے گی۔ آپ عالمی معاملات کو چھوڑیں ، کیا آپ نے گھروں میں ایسے واقعات نہیں دیکھے، جہاں کم سن ملازمہ کو تشدد کر کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور وہ بھی پڑھے لکھے خاندانوں کی طرف سے ۔ کسی کو رحم نہیں آیا۔
مال و اسباب پہ قبضے کا عالم یہ ہے کہ دنیا کے امیر ترین ایک فیصد لوگ دنیا کی پچاس فیصد دولت پہ قابض ہیں۔ دوسری طرف 8ارب میں سے چار ارب انسان بمشکل جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ انسانیت کے علم و فضل کا حال کیا ہے؟ بھینسیں پالنے والا شخص ایک سائنسدان سے کہے گا : صبح سے اب تک میں نے پانچ من دودھ اکھٹا کیا ہے ، تم نے چالیس سال کششِ ثقل پہ سوچ کر کیا حاصل کیا؟ کم علم لوگ عظیم کثرت میں ہیں اور پڑھے لکھے لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ ہروہ شخص جس نے کوئی نیا علمی راز دنیا کو بتانے کی کوشش کی ، ساری زندگی ذلیل ہوتا رہا۔ مذہبی پیشوائوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ارب پتی ہے۔
وینزویلا پہ قبضہ، مغربی کنارے اور غزہ پہ قبضہ، یوکرین میں نیٹو اور روس کی جنگ ، امریکی اور یورپی اختلافات سے بکھرتا ہوا نیٹو ، یہ سب صرف ایک ٹریلر ہے۔ ایران پہ حملے کا فیصلہ ہوچکا ۔ امریکی اور روسی بحری بیڑے پانیوں پہ تیر رہے ہیں۔ برطانیہ کی فضا جنگی جہازوں کی گھن گرج سے گونجتی رہتی ہے۔ مختلف ممالک دیوانوں کی طرح مہلک اسلحہ بنا کر ایک دوسرے کو بیچ رہے ہیں۔ ٹینکوں سے لے کر ڈرونز تک پورا کرہ ارض جنگی نقشہ پیش کررہا ہے ۔
خشکی اور پانی فساد سے بھر گئے۔ یہ انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے تاکہ اللّٰہ انسان کو اسکے اعمال کا بدلہ چکھائے تو پھر تو شاید وہ باز آئے۔ سورۃ الروم 41۔ جب تک کرۂ ارض ایک بار پھر خون میں ڈوب نہیں جاتا، ڈونلڈ ٹرمپ، پیوٹن اور مودی توبہ کرنے والے نہیں۔ کبھی کبھی آدمی سوچتا ہے : کاش میری ماں نے مجھے جنا نہ ہوتا۔