کراچی (نیوز ڈیسک) شامی حکومت اور ایس ڈی ایف میں فوری جنگ بندی، تمام محاذوں پر لڑائی روکنے پر اتفاق، ایس ڈی ایف کا انخلا، دیرالزور اور رقہ کا کنٹرول دمشق کے حوالے، جنگجوؤں کو شامی وزارتِ دفاع و داخلہ میں ضم کیا جائیگا۔ امریکا کا جنگ بندی کا خیرمقدم، کچھ کرد حلقوں میں تحفظات کا اظہار، معاہدے کو دمشق اور ترکیہ کی بڑی سیاسی و عسکری کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق شامی سرکاری میڈیا کے مطابق کئی دنوں کی شدید لڑائی کے بعد شامی حکومت اور کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے تحت ایس ڈی ایف دریائے فرات کے مغرب میں واقع علاقوں سے انخلا کرے گی اور دیرالزور، رقہ اور دیگر ایس ڈی ایف کے زیرِ انتظام صوبوں کا انتظامی اور عسکری کنٹرول دمشق کے حوالے کر دیا جائے گا، جبکہ شامی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان علاقوں میں ایس ڈی ایف کے ملازمین، جنگجوؤں یا موجودہ سول انتظامیہ کے ارکان کو نشانہ نہیں بنائے گی؛ معاہدے کے مطابق ایس ڈی ایف کے تمام فوجی اور سکیورٹی اہلکار انفرادی جانچ کے بعد شامی وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ میں ضم کیے جائیں گے، الحسکہ کے لیے صدر ایک نیا گورنر نامزد کریں گے، اور داعش کے خلاف جنگ شامی حکومت امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ جاری رکھے گی، جس کے تحت داعش کے قیدیوں اور کیمپوں کا کنٹرول بھی دمشق کو منتقل کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ شامی فوج کی برق رفتار پیش قدمی کے بعد سامنے آیا جس میں اس نے طبقا شہر اور اہم تیل و گیس کے ذخائر پر قبضہ کرتے ہوئے رقہ کی جانب پیش رفت کی، جبکہ امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے اس جنگ بندی کو دو “اہم شامی رہنماؤں” کے درمیان تاریخی پیش رفت قرار دیا، تاہم بعض کرد حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکہ اس معاہدے میں دمشق کو ترجیح دے رہا ہے۔ پچھلے دس دنوں کی جھڑپوں کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے، گھروں اور اسکولوں کو نقصان پہنچا، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی ترکی اور دمشق دونوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف براہِ راست ترک فوجی مداخلت سے بچاؤ ممکن ہوا بلکہ شامی ریاستی کنٹرول دوبارہ مضبوط ہوا، جبکہ مجموعی طور پر جنگ سے تھکے ہوئے شامی عوام اب کسی بھی صورت استحکام اور امن کے خواہاں ہیں۔