بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر کہا ہے کہ کشمیر میں موجودہ سیاسی صورتحال میں بےبسی کا احساس غالب ہے اور نئی دہلی کو کشمیر اور کشمیریوں کے حالات کی کوئی خاص فکر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اس وقت جمود کا شکار ہے اور کشمیری صرف امید کے سہارے زندہ ہیں۔
سابق سربراہ را نے کشمیریوں میں مایوسی کا ذکر چنئی میں منعقدہ لیٹریچر فیسٹول میں کیا۔
اے ایس دولت کا کہنا تھا کہ واجپائی کے دور کی بی جے پی اور نریندر مودی کی بی جے پی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ان کے مطابق سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے تھے جبکہ موجودہ مودی حکومت کو اس سے زیادہ سروکار نہیں ہے۔
مقبوضہ وادی میں آرٹیکل 370 کی منسوخی پر بات کرتے ہوئے را کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے کہا کہ کشمیریوں سے یہ علامتی سہارا بھی چھین لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جس بڑے احتجاج کی توقع تھی وہ نہیں ہوا، بلکہ کشمیری خاموش ہو گئے اور یہی خاموشی خوفناک ہے کیونکہ اس کے نتائج کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
فیسٹول میں بھارتی بالی ووڈ فلموں میں مسلمان کو منفی کرداروں میں دیکھانے پر بھی شدید تنقید کی گئی۔
مقررین نے کہا کہ بھارتی فلم انڈسٹری مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے اور مذہبی تقسیم کا باعث ہے۔