امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹرز نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں وائٹ ہاؤس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے 11 دن بعد بھی حکومت اپنے مقاصد اور حکمتِ عملی واضح کرنے میں ناکام ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کو دی گئی خفیہ بریفنگ کے بعد سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا کہ میں گزشتہ 15 برسوں میں کسی بھی بریفنگ کے بعد اتنا ’مایوس اور غصے میں‘ نہیں رہا، اجلاس کے بعد جنگ کی لاگت، اہداف اور ممکنہ امریکی زمینی کارروائیوں سے متعلق سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی فوجیوں کو عراق یا ایران میں زمینی جنگ کے لیے بھیجا جا سکتا ہے جس سے امریکی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔
سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اب تک یہ واضح نہیں کر سکی کہ امریکا جنگ میں کیوں داخل ہوا، اس کے اہداف کیا ہیں اور کامیابی کیسے حاصل کی جائے گی۔
انہوں نے جنگی اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحت کی سہولتوں کے لیے فنڈز کم کیے گئے لیکن ایران پر بمباری کے لیے روزانہ اربوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں۔
سینیٹر جیکی روزن نے بریفنگ کو ’انتہائی تشویشناک اور پریشان کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جنگ کا حتمی منصوبہ پیش نہیں کیا ہے۔