پیرس (اے ایف پی) فرانس اور برطانیہ سمیت کئی ممالک آسٹریلیا کی پیروی کرتے ہوئے بچوں اور بعض نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں، لیکن ماہرین اب بھی اس اقدام کی تاثیر پر بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔پابندی کے حامی خبردار کرتے ہیں کہ نوجوانوں میں بگڑتی ہوئی ذہنی صحت سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، لیکن پابندیوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ شواہد غیر حتمی ہیں اور وہ زیادہ باریک بین (جامع) طریقہ کار چاہتے ہیں۔آسٹریلیا گزشتہ ماہ پہلا ملک بن گیا جس نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے بے حد مقبول اور منافع بخش سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کی۔