• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں بالعموم اور ہمارے ہاں بالخصوص شادی کے موقع پر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے کا چلن نیا نہیں۔گزشتہ برس بھارت میں اننت امبانی اور رادھیکا مرچنٹ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تو اس حوالے سے ہونے والی تقریبات کی دھوم مچ گئی ۔نہ صرف دنیا بھر کے بااثرترین افراد نے شرکت کی بلکہ اسے دنیا کی سب سے مہنگی شادی قرار دیا گیا جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی لاگت آئی۔شاہی خاندان کی شادیوںمیں سے لیڈی ڈیانا اور پھرشیخ محمد بن زید النہیان کی شادی کے بہت چرچے رہے۔

پاکستان میں بھی ایک شاہی خاندان بارات لیکر آیاتھا ۔یہ15جولائی1968ء کی بات ہے جب فوجی حکمران ایوب خان کے دور میں اردن کے بادشاہ شاہ حسین کےچچا شریف حسین پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اکرام اللہ کی صاحبزادی ثروت کیلئے اردن کے ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال کا رشتہ لیکر آئے۔27اگست1968ء کو بارات آئی توطیارہ خوداردن کے فرمانروا شاہ حسین اُڑا رہے تھے او ر کراچی ایئر پورٹ پر انکے استقبال کیلئےایوب خان موجود تھے۔جنرل ضیاالحق کے دور میں جب لیاری کے ککری گراؤنڈ میںبینظیر بھٹو کی آصف زرداری سے شادی ہوئی تو اس تقریب کے بھی تذکرے ہوتے رہے ۔مگر ان شادیوں پر لوگوں نے خفگی یا ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔

اب گزشتہ چند برس سے یہ رجحان چل نکلا ہے کہ شادی کے موقع پر ہونیوالے اخراجات زیر بحث آتے ہیں ۔خواتین کی آرائش و زیبائش پر تنقید کی جاتی ہے ۔یوں خوشی و انبساط کے یہ خوبصورت لمحات بھی زہر آلود سیاسی تبصروںکی نذر ہوجاتے ہیں۔جب بھی اس طرح کی کوئی بڑی شادی ہوتی ہے تو بحث شروع ہوجاتی ہے کہ جس معاشرے میںکروڑوں لوگ غربت کی نام نہاد لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں ،دو وقت کی روٹی ،تن ڈھانپنے کو لباس اور بیٹی کوتین کپڑوں میں رخصت کرنے کی استطاعت نہ ہو،وہاں عوام کی نمائندگی کا دم بھرنے والے سیاستدانوں کو اس طرح کے چونچلے زیب دیتے ہیں؟

کیا کبھی ارباب تاج وتخت اوراصحاب زر وبخت نے یہ سوچا ہے کہ عام آدمی کا دل بھی انکی طرح ہی دھڑکتاہے،اسکے ارما ن بھی مچلتے اور تمنائیں بیدار ہوتی ہیں۔کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ ایک مجبور ماں جسکی بیٹی جہیز کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے شادی کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہے ،جب وہ مہنگے ملبوسات اور شادیوں کی یہ رنگینیاں دیکھتی ہوگی تو اسکے دل میں کتنے تیر ترازو ہوتے ہوں گے؟ایک طرف غربت وافلاس اور تنگدستی کے یہ مناظر اور دوسری طرف ارباب اقتدار کے یہ چونچلے ،یہی افراط و تفریط خوشیوں کو غارت کرنے کا سبب بنتا ہے۔

جب طبقہ اُمرا کی شادیوں پر شاہانہ اخراجات کی بات ہوتی ہے تو یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ عام افراد بھی تو اپنی بساط کے مطابق اس طرح کی تقریبات پر خرچ کرتے ہیں تو پھر جنہیں قدرت نے بے حساب دولت سے نوازا ہے وہ بچوں کی خوشیوںپر دل کھول کر اخراجات کیوں نہ کریں ۔اگر مکیش امبانی جیسے کاروباری لوگ اور صنعتکار یہ دلیل پیش کریںتو کسی حد تک اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ وہ عوام کی مسیحائی کا دم نہیں بھرتے،لوگوں کی نمائندگی اور خدمت کے دعویدار نہیں تو اپنی مالی حیثیت کے مطابق طرز زندگی اپنانے میں آزاد ہیں ۔اگر وہ اپنی آسائش یا آرائش و زیبائش نہ چھوڑیں،محض عام افراد کے جذبات و احساسات کا خیال کرتے ہوئے نمائش سے باز آجائیں تو ان کے قد کاٹھ اور نیک نامی میں اضافہ ہوگا لیکن یہ اہتمام نہ بھی کریں تو ان پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی جاسکتی۔تاہم وہ سیاستدان جو لوگوں کی غم خواری کا اظہار کرتے ہوئے یوں اپنایت دکھاتے اور دل لبھاتے ہیں کہ گویا انکے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔کوئی خود کو قوم کا باپ کہلواتا ہے تو کسی کو سب کی ماں ہونے کا دعویٰ ہے۔اپنے کپڑے بیچ کر آٹا سستا کرنے کی باتیں کرنے والے حکمران اگر اس طرح کی نمود و نمائش کا بندوبست کریں تو پھر محرومیوں کا شکار لوگ دل کی بھڑاس کیوں نہ نکالیں۔روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ دینے والے لوگوں کے جذبات سے کھیلیں تو تنقید کیوں نہ ہو؟

ایک اور قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ رجالان سیاست سادگی کو شعار نہیں بنانا چاہتے اورعوام کے حالات زندگی سے قطع نظر بچوں کی شادیوں پر اپنے سب ارمان پورے کرنا چاہتے ہیںتو پھر لوگوںکی ان نجی تقریبات کی بھنک نہ پڑنے دی جائے ۔اس طرح کے مواقع پر پرائیویسی کا اہتمام کیا جائے اور کوئی تصویر یا ویڈیو باہر نہ آئے۔مثال کے طورپر گزشتہ چند ہفتوں میں ایک دو شادیاں ہوئیں۔آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور اور ان کے شوہر منور تالپور کی لے پالک بیٹی عائشہ کی شادی کا تذکرہ رہا،پھر مریم نواز کے صاحبزاے جنید صفدر کی شیخ روحیل اصغر کی پوتی شانزے علی سے شادی کے چرچے رہے۔ جب اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ یا پھر عوام کی نمائندگی کا دم بھرنے والے سیاستدان بچوں کی شادیوں کے موقع پر اپنی دولت کی نمائش کا بندوبست کریں اور پھر نجی تقریبات کے مناظر میڈیا کی زینت بھی بنیں تو پھر پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننے کے خواہش مندبہت ہیں۔ایسی صورت میںان کی تنقیداور سیاسی مخالفین کے حاسدانہ تبصروں کاسامنا کرنے کیلئے بھی تیار رہیں۔

تازہ ترین