پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف سینئر اداکار خالد انعم نے بھارت سے تجارت سے متعلق اہم سوال اُٹھا دیا۔
حال ہی میں پاکستان میں دو شادیوں کا کافی چرچہ رہا، جن کی تصاویر و ویڈیوز نے بھی سوشل میڈیا پر خوب توجہ حاصل کی۔
ان میں سے ایک صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کی بیٹی کی شادی تھی جبکہ دوسری وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی تھی۔
تالپور خاندان کی شادی اس وجہ سے خبروں میں رہی کہ اس میں عاطف اسلم، راحت فتح علی خان اور عابدہ پروین جیسے بڑے ستاروں نے پرفارم کیا جبکہ جنید صفدر کی شادی اپنی منفرد ڈریسنگ اور اسٹائلنگ کے باعث زیرِ بحث رہی، جہاں دلہن اور دولہا کے اہلِ خانہ سمیت تمام میزبانوں نے دیدہ زیب ملبوسات زیب تن کیے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جانے لگے کہ جنید صفدر کی دلہن شانزے علی روحیل نے مہندی اور بارات کے موقع پر بھارتی ڈیزائنرز سبیاساچی مکھرجی اور ترون تہیلیانی کے ملبوسات پہنے، اسی طرح عائشہ تالپور نے اپنی شادی پر بھارتی ڈیزائنر منیش ملہوترا کا لباس زیب تن کیا۔
حال ہی میں معروف پاکستانی اداکار خالد انعم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی پابندیوں کے باوجود اشرافیہ کی دلہنوں کے بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات پہننے پر اپنی الجھن کا اظہار کیا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’میں نے حال ہی میں سنا کہ پنجاب اور سندھ کی دو شاہانہ شادیوں میں دلہنوں نے بھارتی ڈیزائنرز کے ملبوسات پہنے۔ اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ تجارت کھلی ہونی چاہیے لیکن حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان تنازع بھی رہا اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی آئے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب تجارت باضابطہ طور پر کھل چکی ہے؟‘
انہوں نے مزید کہا ’ممکن ہے کہ انہوں نے ایک یا دو ملبوسات ہی پہنے ہوں، میں نے منیش ملہوترا کا نام بھی سنا۔ پاکستان میں بھی شاندار ڈیزائنرز موجود ہیں۔ میں خود ڈیزائنر کپڑوں کا شوقین نہیں ہوں، مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کے لیے جائز ہے؟ کیا ہم بھی یہ کپڑے خرید سکتے ہیں؟ اور یہ کس طرح خریدے گئے؟ کیا آن لائن منگوائے گئے؟ کیا ایک عام پاکستانی بھی بھارتی اشیا اس طرح خرید سکتا ہے؟‘
خالد انعم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آیا پابندی ختم ہو چکی ہے یا یہ پابندیاں صرف عام آدمی کے لیے ہیں جبکہ چند مخصوص افراد کے لیے تجارت کی اجازت ہے۔ میں کنفیوز ہوں۔‘