پاکستان نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی جس کا مقصد فلسطین میں امن کے قیام کی حمایت ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور غزہ کی تعمیر نو کے عمل کو مؤثر بنانے کی امید ظاہر کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا اور بورڈ آف پیس کے ذریعے فلسطین میں امن کے لیے عملی پیشرفت کی امید ہے۔
پاکستان کی غزہ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت فلسطین پر برسوں سے قابض صہیونی ریاست سے برداشت نہیں ہو رہی۔
اسرائیل کے وزیر اقتصادیات نیر برکت نے بھارتی میڈیا سے کہا کہ جو بھی ملک حماس کی حمایت کرتا ہے اس کی فوج کا غزہ میں آنا خوش آئند نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم قطریوں اور ترکوں کو غزہ میں قبول نہیں کریں گے کیونکہ وہ غزہ میں موجود فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن ہمیں اس بات سے کوئی اعتراض نہیں کہ وہ ٹرمپ کی قیادت میں ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ ہیں۔
نیر برکت نے مزید کہا کہ غزہ میں کسی بھی عبوری فورس یا تعمیر نو کے مشن میں پاکستان کی موجودگی تو بالکل ’ناقابل قبول‘ ہے۔
دوسری جانب بھارت میں موجود اسرائیلی سفارتکار ریوین آزر نے کہا کہ اسرائیل ’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت سے مطمئن نہیں اور اس کی وجہ پاکستان کے حماس سے بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اب ایسی کوششیں کی جانی چاہیئں جو آگے بڑھنے میں ہمارے لیے مددگار ثابت ہوں لیکن ایسا صرف حماس کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہے۔
ریوین آزر نے کہا کہ تمام ممالک عام طور پر صرف ان لوگوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں یا جن کے ساتھ ان کے مناسب سفارتی تعلقات ہوتے ہیں اور اسرائیل فی الحال پاکستان کو غزہ میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کسی طور پر بھی قابل اعتبار یا قابل قبول شراکت دار نہیں سمجھتا۔